انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بے گھری پر مجبور عرش سے فرش پر پہنچنے والے ایک شخص کی کہانی

ایک اسٹیڈیم میں بیرونی تقریب میں سوٹ اور لینڈرڈ لٹکائے ہوئے مسکراتا ہوا سیاہ فام شخص سفید بینچ پر بیٹھا ہے۔
UN News یورپی کمیشن کے سابق ملازم بیلجیئم کے لیٹیئر طویل عرصہ بے گھر رہے۔

بے گھری پر مجبور عرش سے فرش پر پہنچنے والے ایک شخص کی کہانی

از نرگس شیکنسکایا (باکو)
معاشی ترقی

نظر انداز کردہ تنبیہ، ایک جعلی چیک اور بیرون ملک ضبط کیا گیا پاسپورٹ۔ چند ہی مہینوں میں لیٹیئر تھیوئے کی وہ زندگی بکھرنے لگی جو انہوں نے برسوں کی محنت سے تعمیر کی تھی۔

یورپی کمیشن کے سابق ملازم لیٹیئر بیلجیئم میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے فرد کی حیثیت سے مستحکم زندگی گزار رہے تھے۔ مگر یہ استحکام اچانک غیر یقینی صورتحال میں بدل گیا اور وہ سپین کی سڑکوں پر خیمے میں رہنے پر مجبور ہو گئے۔ تقریباً چار برس تک وہ وہاں پھنسے رہے جب تک حکام نے دھوکہ دہی کے ایک معاملے کی تحقیقات مکمل نہ کر لیں اور انہیں ہر الزام سے بری قرار دے دیا گیا۔

آج آذربائیجان کے شہر باکو میں منعقد ہونے والے عالمی شہری فورم میں لیٹیئر اپنی کہانی پہلی مرتبہ ایک دستاویزی فلم بعنوان 'وہ منظر جسے کوئی دیکھنا نہیں چاہتا' کے ذریعے بیان کر رہے ہیں۔

فورم کے 13ویں اجلاس میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مساکن (یو این ہیبیٹٹ) نے غیرسرکاری تنظیموں، دی گیری فاؤنڈیشن اور ہوگار سی سمیت متعدد شراکت داروں کو یکجا کیا ہے تاکہ بے گھری کے مسئلے کو عالمی ایجنڈے کا حصہ بنایا جا سکے۔

1998 میں قائم ہونے والی غیر منافع بخش تنظیم ہوگار سی گزشتہ 25 برسوں میں سپین کے 11 علاقوں میں 10 ہزار سے زیادہ افراد کو رہائشی سہولیات اور انسانی حقوق کے تحفظ کے ذریعے بے گھری سے نکالنے میں مدد دے چکی ہے۔ لیٹیئر بھی انہی افراد میں شامل ہیں۔

نہ ختم ہونے والا سفر

جب لیٹیئر سپین پہنچے تو ان کا ارادہ وہاں صرف تین روز قیام کا تھا۔ اس وقت وہ تقریباً 40 برس کی عمرمیں تھے۔ کچھ ہی عرصہ قبل ان کی طلاق ہوئی تھی اور یورپی کمیشن میں ملازمت بھی ختم ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود ان کے پاس خاندان، بچے اور ایک معمول کی زندگی موجود تھی۔ 

سپین میں کچھ لوگوں نے انہیں بظاہر ایک قانونی بینکاری لین دین میں شامل ہونے کی پیشکش کی جس میں ایک چیک استعمال ہونا تھا۔ لیٹیئر نے چیک کو خود ہاتھ تک نہ لگایا بلکہ اسے براہ راست سپین میں اپنے بینک کو بھیجنے کی درخواست کی۔ جب چیک بینک میں پہنچا تو حکام نے اسے جعلی قرار دیا۔ 

تحقیقات کے دوران حکام نے ان کا پاسپورٹ، بینک کارڈ اور دیگر دستاویزات ضبط کر لیں کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ معاملہ کسی بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک سے جڑا ہو سکتا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک سپین نہیں چھوڑ سکتے۔ ہر ماہ انہیں عدالت میں پیش ہو کر اپنی موجودگی ثابت کرنا پڑتی تھی۔ اگرچہ سرحدی نگرانی سخت نہیں تھی اور وہ آسانی سے کسی دوسرے یورپی ملک میں جا سکتے تھے مگر انہوں نے فرار ہونے کا خطرہ مول نہ لیا۔

درختوں تلے زندگی

 سپین میں طویل قیام اور قانونی معاملات نے رفتہ رفتہ انہیں بے گھری کی طرف دھکیل دیا۔ لیٹیئر تقریباً چار برس تک سڑکوں پر رہے۔ ایک اجنبی ملک میں تنہا اور شناختی دستاویزات کے بغیر وہ قانونی طور پر ملازمت نہیں کر سکتے تھے اور گزر بسر مشکل ہوتا گیا۔ اس دوران انہیں جنگلاتی علاقے کے قریب درختوں کے نیچے خیموں میں رہنے والے بے گھر افراد کی چھوٹی سی برادری مل گئی۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ یہ منظم لوگ تھے جو سب مل کر سبزیاں اور گوشت خریدتے، کھانا پکاتے اور زندگی کو معمول پر لانے کی کوشش کرتے تھے۔ اقتصادیات اور مالیات میں تعلیم رکھنے کے باوجود لیٹیئر بازاروں میں غیر رسمی مزدوری کرتے، پھل اور سبزیوں کے ڈبے اٹھانے میں دکانداروں کی مدد کرتے اور صرف اتنا کما پاتے کہ خوراک اور بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔

 لیٹیئر کے مطابق، یہ زندگی نہیں بلکہ صرف بقا کی جنگ تھی۔

بیماری اور ایک نیا موڑ

اسی دوران انہیں بیماری نے آ گھیرا ۔ ابتدا میں ڈاکٹروں نے ایمفیسیما کی تشخیص کی۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ انہیں پھیپھڑوں کا سرطان ہے۔ اگرچہ سپین میں ضرورت مند افراد کے لیے طبی سہولیات موجود ہیں مگر علاج آسان نہ تھا۔ لیٹیئر کے مطابق، ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ سڑک پر رہتے ہوئے کیموتھراپی جان لیوا ثابت ہو گی۔ اس مرحلے پر ہوگار سی نے مداخلت کی اور انہیں ایسپاسیو سالوت نامی پناہ گاہ منتقل کیا جہاں انہیں رہائش، خوراک اور علاج کے دوران مکمل معاونت فراہم کی گئی۔

ہوگار سی اور ایسپاسیو سالوت نے ان کی جان بچائی اور سڑکوں سے نکلنے کا موقع دیا۔

زندگی کی تعمیر نو

رفتہ رفتہ لیٹیئر نے اپی زندگی دوبارہ تعمیر کرنا شروع کی۔ اپنی اعلیٰ تعلیم کی بدولت انہوں نے لیپ ٹاپ پر فری لانس کام لینا شروع کیا اور لندن، فرانس اور امریکا میں موجود سابقہ پیشہ وارانہ روابط کی بدولت انہیں کام ملنے لگا۔ 

وہ کہتے ہیں کہ کبھی جب انسان ذہنی طور پر کمزور ہوتا ہے تو غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے اور وہ غلطیاں انسان کو حقیقت سے بہت دور لے جا سکتی ہیں۔

طویل تحقیقات کے بعد حکام نے کسی وضاحت کے بغیر لیٹیئر کا پاسپورٹ اور سامان واپس کر دیا اور ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ تب تک ان کی زندگی کے چار سال گزر چکے تھے۔ آج لیٹیئر اپنی دستاویزی فلم کے ذریعے بے گھری کے مسئلے پر عوامی آگاہی پیدا کر رہے ہیں۔ 

قابل حل بحران

عالمی شہری فورم میں ان کا پیغام حکومتوں کے ساتھ ساتھ کاروباری اداروں اور ہاؤسنگ ڈویلپرز کے لیے بھی تھا۔

وہ سمجھتے ہیں کہ بے گھری ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ سپین میں تقریباً 37 ہزار افراد سڑکوں پر زندگی گزار رہے ہیں جو پانچ کروڑ آبادی والے ملک کے لیے قابل انتظام تعداد ہے۔ لیٹیئر کا ماننا ہے کہ اگر حکام آج ہی اس بحران کو ختم کرنا چاہیں تو اس کے لیے وسائل موجود ہیں۔

وہ غیر منافع بخش تنظیموں اور نجی رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کو کمزور طبقات کے لیے سستی رہائش کا موثر حل سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے صرف درست کاروباری ماڈل اور اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنے کی ضرورت ہو گی۔

لیٹیئر کی رائے میں بے گھری صرف چھت نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ وقار، شناخت اور معاشرتی تعلق کھو دینے کا تجربہ ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو عموماً ایسے واقعات کے سلسلے سے شروع ہوتا ہے جو لوگوں کے تصور سے کہیں زیادہ تیزی سے زندگی کو بدل دیتے ہیں۔

نوٹ: انگریزی میں شائع ہونے والے اس فیچر کا اردو ترجہ یسال احمر نے کیا ہے۔