جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے پر اجلاس بلا نتیجہ ختم
جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ 11واں اجلاس کسی متفقہ اعلامیہ کے بغیر ختم ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کو لاحق سنگین جوہری خطرات کو رفع کرنے کے لیے نتیجہ خیز پیش رفت میں ناکامی افسوسناک ہے۔
سیکرٹری جنرل نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کا خاتمہ کرنے، جوہری خطرات میں کمی لانے اور بالآخر جوہری ہتھیاروں سے لاحق خطرے کا مکمل سدباب کرنے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بات چیت کے تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لائیں۔
'این پی ٹی' جوہری تخفیف اسلحہ کے لیے عالمی کوششوں کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور اسے وجود میں آئے 50 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ 1970 میں معاہدے کے نفاذ کے وقت کیے گئے وعدوں کی اب تک کسی جائزہ کانفرنس میں نہ تو توثیق ہو سکی ہے اور نہ ہی انہیں مزید مضبوط بنایا جا سکا ہے۔ اس حوالے سے آئندہ جائزہ کانفرنس 2031 میں ہو گی۔
معاہدے کے مستقبل پر تشویش
معاہدے کی 11ویں جائزہ کمیٹی کے صدر ڈو ہنگ ویٹ نے اجلاس کے اختتام پر مندوبین کی مخلصانہ اور بامعنی شرکت کو سراہا، تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چار ہفتوں کی گفت و شنید کے بعد اجلاس میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا اور دنیا کو زیادہ محفوظ بنانے کا ایک اور موقع ضائع ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ شدید کشیدگی اور جوہری ہتھیاروں سے بڑھتے ہوئے خطرات سے عبارت موجودہ عالمی ماحول فوری اقدامات کا متقاضی ہے۔ اگر جائزے کے اختتام پر کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے آتا تو اس سے معاہدہ مضبوط ہوتا اور اس کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی، لیکن ایسی پیش رفت نہ ہونے کے باعث انہیں اس معاہدے کے مستقبل کے بارے میں تشویش ہے۔
جوہری طاقتوں کی ذمہ داری
اقوام متحدہ میں امور تخفیف اسلحہ کی سربراہ ایزومی ناکامتسو نے اجلاس کے اختتام پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدے کے رکن ممالک اس نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں مسلسل تین مرتبہ ہونے والی ناکامی کو انتہائی سنجیدگی سے لینا ہو گا۔
انہوں نے جوہری طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ عدم پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ سوچنا غلط ہے کہ عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں پر عمل تو جاری رہے گا مگر خود جوہری طاقتیں تخفیف اسلحہ کے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل کرنے کی پابند نہیں۔