باکو: شہر کاری فورم میں عالمی رہائشی بحران کے حل کی بھرپور حمایت
اقوام متحدہ کا 13 واں عالمی شہر کاری فورم آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ختم ہو گیا ہے جس میں دنیا کو درپیش رہائشی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، شہروں اور لوگوں کے اشتراک عمل پر مبنی ایک نیا لائحہ عمل پیش کیا گیا۔
چھ روزہ فورم میں 176 ممالک کے نمائندوں کی آرا سے تیار کردہ اس لائحہ عمل 'باکو کال ٹو ایکشن' میں کہا گیا ہے کہ:
- رہائش کو محض عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس میں زمین، بنیادی ڈھانچہ، نقل و حمل، سہولیات اور معاشی مواقع بھی شامل ہوں۔
- بڑھتی ہوئی مہنگائی، نقل مکانی، کمزور طرز حکمرانی اور موسمیاتی آفات جیسے باہم پیوسط مسائل کا انسان دوست اور مربوط حل تلاش کیا جائے۔
- اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ رہائش اور موسمیاتی انصاف ایک دوسرے سے الگ نہیں کیونکہ سب سے زیادہ کمزور طبقات ہی سیلاب، شدید گرمی اور ماحولیاتی خطرات سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
- موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ رہائش کو فروغ دیا جائے جس میں مسائل کے قدرتی طریقوں پر مبنی حل، پرانی عمارتوں کی مرمت، کچی آبادیوں کی بہتری اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری شامل ہو۔
- رہائش سے متعلق وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلا جائے جس کے لیے مضبوط انتظام، زیادہ مالی وسائل، بہتر اعداد و شمار اور مقامی سطح پر لوگوں کی قیادت میں ہونے والے منصوبوں کے لیے تعاون ضروری ہے۔
محفوظ رہائش اور مساوی مواقع
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے فورم کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار شہری ترقی اور مناسب رہائش کے بغیر 2030 کے عالمی ترقیاتی ایجنڈے کا حصول ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے شہر تشکیل دیے جائیں جہاں سبھی کو مساوی سہولیات میسر ہوں اور جو مضبوط و محفوظ رہائش اور مساوی مواقع فراہم کرنے کے قابل ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ رہائشی بحران تقریباً ہر بڑے عالمی مسئلے سے جڑا ہوا ہے، خواہ وہ غربت ہو، عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی، تنازعات ہوں یا عدم استحکام۔ گھر سے ہی انسانی وقار کی شروعات ہوتی ہے۔ مناسب رہائش صاف پانی اور صفائی کی سہولیات تک رسائی دیتی ہے اور کھانا بنانے، روشنی اور حرارت حاصل کے لیے توانائی فراہم کرتی ہے۔ یہ استطاعت، تحفظ اور رہائشی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔
نائب سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ فورم ایسے وقت منعقد ہوا ہے جب عالمی تعاون کو شدید مسائل درپیش ہیں۔ اقوام متحدہ کے منشور کی اقدار اور اصول کمزور پڑ رہے ہیں۔ کشیدگی بڑھ رہی ہے، اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اور تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم اس نوعیت کے بڑے مسائل کا حل باہمی تعاون ہی سے ممکن ہے جس میں مقامی حکومتوں کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔
بنیادی انسانی حق
یو این ہیبیٹٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینا کلاڈیا روسبیخ نے کہا کہ فورم نے عالمی رہائشی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت کا مضبوط اور متفقہ پیغام دیا ہے۔ آج رہائشی نظام عدم مساوات، جائیدادوں میں سٹہ بازی، کمزور طرز انتظام، تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، نقل مکانی اور موسمیاتی بحران جیسے عوامل کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رہائشی شعبہ عوام کی ضروریات پوری کرنے میں واضح طور پر ناکام ہو رہا ہے۔ اربوں لوگ غیر محفوظ، ناکافی اور ناقابل برداشت حالات میں دھکیلے جا رہے ہیں۔ لہٰذا، مسئلے کا حل رہائش کو صرف تجارتی شے کے بجائے بنیادی انسانی حق سمجھنے میں ہے۔
سستی رہائش: پاکستان کی مثال
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(یو این ڈی پی) کے وفد کی سربراہ فرانسن پک اَپ نے فورم کے موقع پر یو این نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر چھوٹے اور ثانوی درجے کے شہروں کے لیے مالی وسائل تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک رہائشی منصوبے کی مثال دی جہاں حکومتی سبسڈی، رعایتی قرضوں اور نجی سرمایہ کاری کو یکجا کر کے کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے رہائش کی سہولتیں بڑھائی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں کے پاس منصوبہ بندی اور پھر اس پر عملدرآمد کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ 'یو این ڈی پی' اور یورپی یونین نے اپنے مشرقی شراکتی ممالک میں تقریباً 400 بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر مقامی حکومتوں کو عوام دوست منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مدد دی ہے
انڈیا میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر سٹیفن پریزنر نے کہا کہ ملک میں شہر کاری کا عمل دور حاضر کی سب سے بڑی اور اہم ترقیاتی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ انڈیا میں سستی رہائش، موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ تعمیرات، نقل و حمل اور درست معلومات پر مبنی شہری منصوبہ بندی میں تعاون فراہم کر رہا ہے۔
بھرپور نمائندگی، کامیاب فورم
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مساکن (یو این ہیبیٹٹ) اور آذربائیجان کی حکومت کے اشتراک سے منعقد ہونے والے اس فورم میں 176 ممالک سے 11 سربراہان مملکت، 88 وزرا اور 130 شہری منتظمین سمیت 57 ہزار سے زیادہ مندوبین شریک ہوئے جبکہ تین ہزار سے زیادہ لوگوں نے آن لائن شرکت کی۔
اس میں مجموعی طور پر 579 تقریبات منعقد ہوئیں جبکہ فورم کی تاریخ کی سب سے بڑی شہری نمائش میں 74 ہزار سے زیادہ لوگ موجود تھے۔ تقریباً 865 صحافیوں نے اس فورم کی کوریج کی۔
اس موقع پر آذربائیجان کی ریاستی کمیٹی برائے شہری منصوبہ بندی و تعمیرات کے چیئرمین انار گولیئیف نے کہا کہ یہ اب تک کا سب سے بڑا شہری فورم تھا جس نے رہائش کے مسئلے کو دوبارہ عالمی سیاسی ایجنڈے کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ فورم کا آئندہ اجلاس 2028 میں میکسیکو میں منعقد ہو گا۔