انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مزدوروں کو عالمی معاہدے کے تحت ہڑتال کا حق حاصل، عالمی عدالت انصاف

فرانس کے شہر اینسی میں لوگوں کا ایک ہجوم مارچ کر رہا ہے، جس میں ملک بھر میں ہڑتال کے دوران سی جی ٹی یونین کے لیے ایک بڑا بینر اور سرخ جھنڈے لیے گئے ہیں۔
© ILO/Marcel Crozet فرانس میں مزدور ایک ملک گیر ہڑتال کے دورن اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔

مزدوروں کو عالمی معاہدے کے تحت ہڑتال کا حق حاصل، عالمی عدالت انصاف

انسانی حقوق

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے دنیا بھر میں آجروں اور محنت کشوں کے درمیان طویل تنازع کو نمٹاتے ہوئے اپنی قانونی مشاورتی رائے دی ہے کہ مزدوروں کو 'عالمی ادارہ محنت' (آئی ایل او) کے بنیادی کنونشن کے تحت اپنے مطالبات منوانے کے لیے ہڑتال کا حق حاصل ہے۔

عالمی عدالت نے 10 کے مقابلے میں 4 ووٹوں سے قرار دیا ہے کہ مزدوروں اور ان کی تنظیموں کے پاس ہڑتال کا حق 'انجمن سازی اور تنظیم سازی سے متعلق حق کے تحفظ بارے 1948 کے کنونشن 87 کے تحت محفوظ ہے۔ تاہم، عدالت نے اپنی اس رائے کے ساتھ ہڑتال کے درست مفہوم، دائرہ کار اس حق کے استعمال سے متعلق کسی طرح کی شرائط طے نہیں کیں۔

یہ معاملہ نومبر 2023 میں 'آئی ایل او' کی گورننگ باڈی نے عدالت کے سامنے بھیجا تھا۔ ادارے کے تینوں بنیادی فریقین یعنی حکومتوں، آجر تنظیموں اور مزدور نمائندوں کے درمیان برسوں سے اس بات پر اختلاف چلا آ رہا تھا کہ آیا کنونشن 87 ہڑتال کے حق کو تحفظ دیتا ہے یا نہیں جبکہ اس میں ہڑتال کا لفظ صراحت کے ساتھ موجود نہیں ہے۔

تنازع کی بنیاد

فریقین میں بنیادی اختلاف اس سوال پر تھا کہ آیا کنونشن 87 میں دیے گئے تنظیم سازی کے حق میں مزدوروں اور ان کی تنظیموں کا ہڑتال کرنا بھی شامل ہے یا نہیں۔ آجر تنظیموں کا مؤقف تھا کہ کنونشن میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے عام مفہوم سے ہڑتال کے حق کا اشارہ ملتا ہو اور نہ ہی معاہدے کی تیاری کی تاریخ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں ہڑتال کے حق کو شامل کرنے کا ارادہ تھا۔

اس سے برعکس، مزدور نمائندوں کا کہنا تھا کہ ہڑتال کا حق تنظیم سازی کی آزادی کا لازمی حصہ ہے اور 'آئی ایل او' کے نگران ادارے طویل عرصہ سے اسے تسلیم کرتے آئے ہیں۔

ادارے نے کہا ہے کہ اس کی گورننگ باڈی نومبر میں ہونے والے اجلاس میں اس معاملے اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات پر غور کرے گی۔

عدالت کی دلیل

عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ کنونشن 87 میں ہڑتال کے حق کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں، لیکن اس نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ کسی شق کا واضح طور پر موجود نہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ معاملہ معاہدے کے دائرے سے خارج ہے۔

ججوں نے قرار دیا کہ ہڑتال کو کنونشن میں مذکور مزدور تنظیموں کی سرگرمیوں کے عام مفہوم میں شامل سمجھا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خاص طور پر وہ شقیں اہم ہیں جو مزدوروں اور آجروں کو تنظیمیں بنانے اور اپنے مفادات کے دفاع کا حق دیتی ہیں۔

ججوں میں اختلاف

اگرچہ تمام جج اس بات پر متفق تھے کہ عدالت کو اس معاملے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے اور اسے 'آئی ایل او' کی درخواست کا جواب دینا چاہیے تاہم چار ججوں نے بنیادی فیصلے سے اختلاف کیا۔

جج پیٹر ٹومکا نے کہا کہ اکثریتی فیصلہ کنونشن کی تشریح کو ریاستوں کی اصل رضامندی سے آگے لے گیا ہے۔ یہ معاہدہ مزدور اور آجر تنظیموں کے قیام، خودمختاری اور داخلی نظم و نسق کا تحفظ تو کرتا ہے مگر ہڑتال جیسی مخصوص اجتماعی معاشی کارروائیوں کا حق نہیں دیتا۔

جج زویے ہینکن نے بھی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدے کی تشریح سے زیادہ انسانی حقوق کی وکالت معلوم ہوتا ہے۔ عدالت کو کنونشن کے متن اور اس کی تیاری کی تاریخ پر زیادہ توجہ دینا چاہیے تھی۔

یہ 'آئی ایل او' کی تاریخ میں دوسرا موقع ہے کہ کسی بین الاقوامی مزدور کنونشن کی تشریح سے متعلق سوال عدالت کے سپرد کیا گیا۔ 1945 میں عالمی عدالت کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ ایسا معاملہ اس کے روبرو لایا گیا ہے۔