سلامتی کونسل: غزہ امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد ضروری، رامز الاکباروف
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سلامتی کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے جامع امن منصوبے کے تمام نکات پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر اور امدادی رابطہ کار رامز الاکباروف نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اشتعال انگیز بیانات کشیدگی کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔
غزہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد میں تاخیر، روزانہ پرتشدد کارروائیوں اور انسانی بحران نے اس مثبت فضا کو ختم کر دیا ہے جو جنگ بندی کے بعد پیدا ہوئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی پیش رفت پر بات چیت جاری ہے لیکن بعض حلقوں کی جانب سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں جس کے نتائج غزہ کے عوام کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ اس صورتحال سے بچنا ہوگا کیونکہ غزہ کے لوگ مزید جنگ برداشت نہیں کر سکتے۔
جامع امن منصوبہ: 4 ضروری اقدامات
نمائندے نے قرارداد 2803 کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامع منصوبے کے تمام عناصر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان پر مکمل طور پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس منصوبے کے تحت:
- حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروہوں کو ہتھیار ترک کرنا ہوں گے۔
- اسرائیلی افواج کو غزہ سے انخلا کرنا ہو گا۔
- علاقے میں استحکام برقرار رکھنےکے لیے فورس کی تعیناتی عمل میں آنی چاہیے۔
- غزہ کی انتظامیہ کے لیے قائم قومی کمیٹی کو فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مل کر اپنی عبوری ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنانا ہو گا۔
بحالی کے لیے اقوام متحدہ کا کردار
رامز الاکباروف نے کہا کہ اقوام متحدہ فوری انسانی امداد کی فراہمی اور طویل المدتی بحالی کی بنیاد ڈالنے کا عمل جاری رکھے گا۔ فلسطینی اتھارٹی کے اشتراک سے قائم کردہ اقوام متحدہ کا ابتدائی بحالی فنڈ ان کوششوں کو موثر، شفاف اور جوابدہ انداز میں وسعت دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
غزہ کی بحالی کے عمل سے ایسے سیاسی مقاصد کو فروغ ملنا چاہیے جن کے تحت غزہ اور مغربی کنارے کو ایک خودمختار، جائز اور متحد فلسطینی حکومت کے تحت دوبارہ یکجا کیا جائے اور فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کی راہ ہموار ہو۔
امن کونسل کی پہلی رپورٹ
اجلاس میں مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے قائم کردہ امن کونسل کے اعلیٰ سطحی نمائندے نکولائی ملادینوف نے قرارداد 2803 پر عمل درآمد سے متعلق اپنی پہلی تحریری رپورٹ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی۔
انہوں نے غزہ تنازع کو ختم کرنے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تیار کردہ روڈ میپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ کے منصوبے کو کامیابی سے نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف غزہ میں اصلاحات آئیں گی بلکہ فلسطینیوں کے ذریعے فلسطینیوں کے لیے اس کی تعمیر نو بھی ممکن ہو گی۔
اس سے غزہ میں ہر سطح پر حالات بہتر ہوں گے، جن میں سرحدی گزرگاہوں سے سامان کی آمدورفت، بندرگاہ کی ترقی، نوجوانوں کی تعلیم، بجلی کی فراہمی اور گھروں کی تعمیر شامل ہے۔ تعمیرنو کے پہلے ہی سال سرکاری شعبے میں ہزاروں ملازمتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔
ملادینوف نے بتایا کہ 15 نکاتی روڈ میپ جنگ بندی کے ضامن ممالک، مصر، ترکی، قطر اور امریکہ سے مشاورت اور فلسطینی دھڑوں کے ساتھ متعدد مذاکراتی ادوار کے بعد تیار کیا گیا۔
اس منصوبے کی بنیاد باہمی عمل کے اصول پر ہے یعنی ایک فریق کا ہر قدم دوسرے فریق کے متبادل اقدام سے مشروط ہو گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ روڈ میپ میں تصدیقی نظام بھی شامل ہے جس کے تحت ہر مرحلے کی آزاد کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کے بعد ہی اگلا مرحلہ شروع ہو گا۔
تنازع کے فریقین کی ذمہ داری
انہوں نے حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور جامع منصوبے کے لیے تعمیری انداز میں تعاون کریں۔ تاہم صرف فلسطینی فریق کی ذمہ داریوں سے پیش رفت ممکن نہیں ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہا کہ انسانی امداد کی ترسیل پر اسرائیلی پابندیاں اور تاخیر محض انتظامی مسائل نہیں بلکہ ان کا براہ راست اثر فلسطینی عوام کے اس احساس پر پڑتا ہے کہ آیا جنگ واقعی ختم ہوئی ہے اور آیا یہ عمل انہیں سلامتی، وقار اور تعمیر نو فراہم کر سکتا ہے یا نہیں۔
ملادینوف نے کہا کہ اگر اسلحہ ترک کرنے اور عبوری عمل میں رکاوٹ یا تاخیر پیدا کرنے جیسے مسائل سامنے آئے تو امن کونسل شہری استحکام، انسانی امداد اور بحالی کے فروغ کے لیے موثر اقدامات پر غور کرے گی۔ یہ اقدامات اسی فریم ورک کی بنیاد پر ہوں گے جس پر جامع منصوبہ تیار کرتے وقت فریقین نے اتفاق کیا تھا اور جسے عرب اور اسلامی ممالک کی حمایت اور سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتے ہوئے حماس پر دباؤ ڈالے کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر روڈ میپ قبول کرے اور اسرائیل کو بھی جنگ بندی سے متعلق اپنے وعدوں کی پاسداری پر آمادہ کرے۔