انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسمیاتی بحران: عالمی عدالت کے فیصلے پر جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور

ججوں اور مندوبین نے ہیگ میں امن محل میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کے اجلاس میں شرکت کی۔
© ICJ-CIJ/Frank van Beek آئی سی جے نے قرار دیا تھا کہ اگر ریاستیں ماحول کو گرین ہاؤس گیسوں کے نقصانات سے بچانے کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو وہ قانونی طور پر جواب دہ ہوں گی (فائل فوٹو)۔

موسمیاتی بحران: عالمی عدالت کے فیصلے پر جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رکن ممالک پر اپنے عوام کو بڑھتے ہوئے موسمیاتی بحران سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری کے حق میں قرارداد واضح اکثریت سے منظور کر لی ہے۔

یہ قرارداد بحرالکاہل میں واقع جزائر پر مشتمل ملک وینوآتو اور دیگر نے پیش کی تھی جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ طویل بحث اور متعدد ترامیم کی تجاویز کے بعد قرارداد 141 ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہوئی۔ آٹھ ممالک نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ 28 ملک رائے شماری سے غیرحاضر رہے۔

Tweet URL

قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والے ممالک میں امریکہ، روس سعودی عرب، ایران، اسرائیل، لائبیریا، بیلاروس اور یمن شامل ہیں۔ 

عالمی عدالت کے فیصلے کی توثیق

اس قرارداد کے ذریعے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جولائی 2025 میں دی گئی مشاورتی قانونی رائے کی حمایت کی گئی ہے جس میں اس نے قرار دیا تھا کہ ریاستوں پر ماحول کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

'آئی سی جے' نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ اگر ریاستیں ان ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو وہ قانونی طور پر جواب دہ ہوں گی اور حالات کے مطابق انہیں نہ صرف نقصان دہ عمل روکنا ہو گا بلکہ یہ ضمانت بھی دینا ہو گی کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا جبکہ ان پر نقصان کے مکمل ازالے کی ذمہ داری بھی عائد ہو سکتی ہے۔

اگرچہ عدالت کی مشاورتی آرا کی پابندی قانونی طور پر لازمی نہیں ہوتی، تاہم ان کی قانونی اور اخلاقی اہمیت ضرور ہوتی ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کی وضاحت اور فروغ میں مدد دیتی ہیں اور ریاستوں کی ذمہ داریوں کو واضح کرتی ہیں۔

رکن ممالک کا قانونی فرض

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ قرارداد کی منظوری بین الاقوامی قانون، موسمیاتی انصاف اور سائنسی حقائق کی طاقتور توثیق ہے۔ یہ ایک مضبوط پیغام دیتی ہے کہ موسمیاتی بحران سے نمٹنا محض سیاسی انتخاب نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت رکن ممالک کا فرض ہے۔ 

جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے بعد جاری بیان میں سیکریٹری جنرل نے کہا کہ جو ممالک اور لوگ موسمیاتی تبدیلی لانے کے سب سے کم ذمہ دار ہیں وہی اس کی سب سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ موسمیاتی انصاف کا راستہ معدنی ایندھن سے تیز تر، منصفانہ اور مساوی بنیاد پر قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی نہ صرف سب سے سستی بلکہ سب سے محفوظ توانائی بھی ثابت ہوئی ہے اور عالمی حدت میں اضافے کو قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری کی حد میں رکھنا اب بھی ممکن ہے۔ 

قرارداد کے مندرجات

قرارداد میں تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پیرس معاہدے پر عمل کرتے ہوئے موسم اور ماحول کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں جن میں ان کے ہاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روکنا بھی شامل ہے۔ 

اس میں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹںے کے لیے نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے سے تعاون کریں، عالمی سطح پر موسمیاتی بحران کے خلاف مسلسل مربوط کوششیں جاری رکھیں اور یقینی بنائیں کہ موسمیاتی پالیسیاں انسانی حقوق خصوصاً زندگی، صحت اور رہن سہن کے مناسب معیار کا تحفظ کریں۔