انسانی کہانیاں عالمی تناظر

باکو: عالمی شہر کاری فورم میں رہائش کے مسائل مرکز بحث

بالکونیوں پر لانڈری کے ساتھ ایک کثیر المنزلہ اپارٹمنٹ کی عمارت نیروبی، کینیا کی ماتھارے کچی آبادی میں ایک مصروف گلی بازار کو دیکھتی ہے۔
© UN-Habitat/Kirsten Milhahn دنیا میں 1.12 ارب لوگ کچی بستیوں میں رہتے ہیں جبکہ 30 کروڑ لوگ بے گھر ہیں۔

باکو: عالمی شہر کاری فورم میں رہائش کے مسائل مرکز بحث

از نرگس شیکنسکایا (باکو)
معاشی ترقی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ رہائش کو پائیدار ترقی کے عمل میں مرکزی اہمیت دینا ہو گی کیونکہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات، شہری آبادی میں تیزرفتار اضافے اور سنگین موسمیاتی بحرانوں سے دنیا بھر کے شہروں کو مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ عالمی شہر کاری فورم کے 13ویں اجلاس کے موقع پر اپنے ویڈیو خطاب میں کہا ہے کہ رہائش کا براہ راست تعلق لوگوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کے مواقع سے ہے۔ یہ بات ان کے لیے باعث فخر ہے کہ معاہدہ برائے مستقبل اور دوحہ سیاسی اعلامیہ میں رہائش کو ترجیح کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد عالمی تعاون کو مضبوط بنانا اور آنے والی نسلوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے جبکہ دوحہ اعلامیہ گزشتہ برس عالمی سماجی سربراہی اجلاس میں منظور کیا گیا جس میں جامع اور مساوی ترقی پر زور دیا گیا تھا۔

Tweet URL

 سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ رہائش ایک بنیادی انسانی حق اور انسانی وقار کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ سستی اور مناسب رہائش کو تمام لوگوں کے لیے مشترکہ حقیقت بنایا جائے کیونکہ رہائش کا بحران اب صرف غریب ممالک تک محدود نہیں رہا۔ ترقی پذیر دنیا کے تیزی سے پھیلتے شہروں سے لے کر ترقی یافتہ معیشتوں تک کوئی بھی معاشرہ اس بحران سے محفوظ نہیں۔

جامع حکمت عملی کی ضرورت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدراینالینا بیئربوک نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس مسئلے کا کوئی آسان حل موجود نہیں۔ مزید گھر تعمیر کرنا ضروری ہے لیکن صرف یہی کافی نہیں ہو گا۔ انہوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا جس میں رہائش کو بنیادی ڈھانچے، موسمیاتی مزاحمت، مالی وسائل اور شہری منصوبہ بندی کے ساتھ جوڑا جائے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی آبادی، سول سوسائٹی اور شہریوں کی شمولیت کے بغیر پائیدار شہری ترقی ممکن نہیں۔

شہروں پر بڑھتا دباؤ

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، ہر ہفتے تقریباً 15 لاکھ افراد شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ 2050 تک دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی شہری علاقوں میں مقیم ہو گی اور اس اضافے کا تقریباً 90 فیصد حصہ افریقہ اور ایشیا میں ہو گا۔

اسی دوران کچی آبادیاں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں 30 فیصد سے زیادہ شہری آبادی ایسی بستیوں میں رہتی ہے جہاں بنیادی سہولیات اور مناسب بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں۔

فورم کے شرکا ان مسائل اور ان سے جڑی دیگر مشکلات، جیسا کہ بنیادی سہولیات تک عدم رسائی، موسمیاتی عدم تحفظ اور شہری نظم و نسق میں کمزوریوں کا حل تلاش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

سب کے لیے مناسب رہائش

آذربائیجان اور صومالیہ 2025–2026 کی مدت میں 'سب کے لیے مناسب رہائش' سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارہ مساکن (یو این ہیبیٹٹ) کے بین الحکومتی ورکنگ گروپ کے مشترکہ سربراہ ہیں۔ یہ گروپ رکن ممالک کی کوششوں کو مربوط کرنے اور محفوظ، پائیدار اور کم لاگت رہائش سے متعلق عالمی سفارشات تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

فورم کے شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے اپنے ملک کو مشرق اور مغرب کا سنگم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قدیم اور جدید طرز کا امتزاج آذربائیجان کے فن تعمیر میں بھی نظر آتا ہے۔

اس موقع پر یو این ہیبیٹٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکراین کلاڈیا روسبیخ نے کہا کہ اس نوعیت کے کسی بھی فورم میں قبل ازیں اتنی بڑی اور متنوع عالمی شرکت دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگرچہ حالیہ دنوں آذربائیجان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں نے مشکلات پیدا کی ہیں لیکن فورم میں سبھی لوگ عزم، حوصلے اور مشترکہ مقصد کے ساتھ اکٹھے ہوئے ہیں۔

شہر کاری اور رہائش کے موضوع پر یو این نیوز اردو کی مزید خبریں اور تجزیے پڑھیے