اماراتی ایٹمی بجلی گھر کے قریب ڈرون حملے پر یو این کو تشویش
جوہری توانائی کے بین الاقوامی نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی نے متحدہ عرب امارات میں جوہری بجلی گھر کے قریب ڈرون حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی تنصیبات کو کسی صورت عسکری کارروائیوں کا نشانہ نہیں ہونا چاہیے۔
'آئی اے ای اے' کو بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں سوموار کی صبح براکہ جوہری مرکز کے یونٹ 3 کو بیرونی بجلی کی ترسیل بحال کر دی گئی ہے۔ اس مرکز پر ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک برقی جنریٹر میں آگ لگ گئی تھی۔
ڈائریکٹر جنرل نے بجلی کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جوہری تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے کیونکہ اب ری ایکٹر کو بجلی کے لیے ہنگامی ڈیزل جنریٹر پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی
یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پیش آیا ہے جو فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور جواباً ایران کی طرف سے خلیجی ممالک کے خلاف جوابی کارروائیوں کے بعد شدت اختیار کر گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، براکہ جوہری پلانٹ متحدہ عرب امارات کی توانائی ضروریات کا تقریباً ایک چوتھائی پورا کرتا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل نے کشیدگی کے خاتمے اور جوہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یو این چیف کی اپیل
قبل ازیں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی اس جوہری مرکزی پر حملے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فریقین فوری طور پر لڑائی بند کر دیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ شہری تنصیبات، خصوصاً جوہری مراکز پر حملے ناقابل قبول اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔