فلسطین: ہلاکتیں، تباہی اور زمینوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے قبضے جاری
غزہ میں جنگ بندی کے بعد تشدد کی شدت میں کمی آئی ہے لیکن ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے جبری بے دخل کیے جانے کی رفتار کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔
یہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے سربراہ اجیت سنگھے نے 7 اکتوبر 2023 سے 31 مئی 2025 تک غزہ اور مغربی کنارے میں حقوق کی صورتحال سے متعلق اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔
اس میں بین الاقوامی قانون کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی، جنگی اور انسانیت کے خلاف ممکنہ جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی دونوں ان جرائم کے ذمہ دار ہیں۔
اجیت سنگھے نے کونسل کو بتایا کہ غزہ میں قتل و غارت اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جاری ہے جبکہ مجموعی انسانی صورتحال بدستور انتہائی سنگین ہے۔ حماس بھی شہریوں کے خلاف حملوں میں ملوث ہے۔ فلسطینی مسلح گروہوں نے 7 اکتوبر 2023 اور اس کے بعد اسرائیلی شہریوں پر حملے کرکے جنگی جرائم اور ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔
ان گروہوں کی قید سے رہا ہونے والے اسرائیلی یرغمالیوں نے تشدد، بدسلوکی اور جنسی زیادتی سمیت سنگین مظالم کے قابل اعتماد بیانات دیے ہیں۔ دوسری جانب، اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں تباہ کن تشدد اور بے دخلی کے اقدامات کر رہا ہے جو جنگی اور ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
ایسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے نسل کشی کی روک تھام سے متعلق کنونشن کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں پر تشویشناک سوالات ابھرتے ہیں۔
ناکہ بندی، بھوک اور موت
اجیت سنگھے نے کہا کہ کہ فلسطینیوں کے پاس اپنی بقا یقینی بنانے یا اپنے عزیزوں کی زندگی کو تحفظ دینے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد بھی سیکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج غزہ میں کم از کم 72,769 فلسطینیوں کو ہلاک کر چکی ہے۔
غزہ کی ناکہ بندی کے نتیجے میں قحط اور بھوک نے جنم لیا جس کی پیش گوئی پہلے ہی کی جا چکی تھی اور بعد میں اس کی تصدیق بھی ہوگئی۔ اس صورتحال میں سیکڑوں افراد موت کے منہ میں چلے گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم ہے اور بعض حالات میں یہ انسانیت کے خلاف جرم بلکہ نسل کشی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
جبری نقل مکانی
انہوں نے کہا کہ غزہ میں لوگوں کی جبری نقل مکانی نے نسلی تطہیر اور جبری بے دخلی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ لوگ ایسے علاقوں سے بھاگنے پر مجبور ہوئے جو اب مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج غزہ میں عمارتیں گرا رہی ہے جن میں ایسے مکانات بھی شامل ہیں جن کے ملبے تلے ہزاروں فلسطینیوں کی لاشیں اب تک دبی ہوئی ہیں۔
مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی اور اسرائیلیوں کی آبادکاری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج اور پولیس آبادکاروں کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کو بے خوفی سے قتل کر رہی ہیں۔ 7 اکتوبر کے بعد علاقے میں 1,096 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً 20 فیصد بچے بھی شامل ہیں جبکہ آبادکاروں کے حملے عموماً اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی حمایت، رضامندی یا براہ راست شمولیت سے کیے جاتے ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے آبادکار تحریک کو مزید مسلح کیا، اسے احتساب سے بچایا اور اب اس کے تشدد کو اپنے الحاقی منصوبوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد آبادکاری کی رفتار میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 127 پرانی بستیوں کے ساتھ مزید 102 نئی بستیاں قائم کی گئی ہیں۔
فلسطینی املاک پر قبضے
اجیت سنگھے نے کونسل کو بتایا کہ مغربی کنارے میں جنین، طولکرم اور نور شمس پناہ گزین کیمپوں سے بے دخل کیے گئے 33 ہزار فلسطینی اب تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔
مشرقی یروشلم کے قدیم شہر کے اطراف بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے تاکہ ان کی جائیدادیں آبادکاروں کے حوالے کی جا سکیں یا وہاں پارک اور کیبل کار جیسے منصوبے بنائے جا سکیں۔
رپورٹ میں اسرائیل کی قید میں فلسطینیوں پر تشدد، جنسی زیادتی، ناکافی خوراک اور طبی سہولیات سے محرومی جیسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
اجیت سنگھے نے کہا کہ افسوسناک طور سے حقوق کی ان پامالیوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ جنگ بندی کے باوجود گزشتہ برسوں میں ہونے والی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بامعنی احتساب نہیں ہوا۔ جب جرائم پر کسی کو سزا نہ ہو تو وہ دوبارہ جنم لیتے ہیں۔ رپورٹ میں درج بیشتر ہولناک واقعات کے متاثرین کے لیے انصاف کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو فلسطینیوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق فوری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ اسرائیلی قبضہ ختم ہو، شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، تمام فریقوں کے جرائم کا احتساب ہو اور فلسطینیوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر آ سکیں۔ ایسے حالات میں خاموشی یا بے عملی محض غیر جانبداری نہیں ہوتی بلکہ جرائم کا اجازت نامہ بن جاتی ہے۔