انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خود مختاری اور مساوات پر مبنی صحت کے نئے عالمی ڈھانچے پر زور

دنیا صحت تنظیم کے جنرل ڈائریکٹر ٹیڈروس اڈھانوم گیبریئیسوس جنیوا میں عالمی صحت اسمبلی کے دوران ایک پوڈیم پر تقریر کر رہے ہیں۔
© WHO/Pierre Albouy عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس (فائل فوٹو)۔

خود مختاری اور مساوات پر مبنی صحت کے نئے عالمی ڈھانچے پر زور

صحت

ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کا اجلاس جنیوا میں شروع ہو گیا ہے جس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نیا عالمی طبی ڈھانچہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کئی ممالک کو ترقیاتی امداد میں اچانک اور بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس صورتحال کا ایک غیر ارادی فائدہ بھی سامنے آیا کہ بہت سے عالمی رہنماؤں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اب عطیہ دہندگان پر انحصار ختم کر کے طبی خودمختاری کے نئے دور کا آغاز کیا جائے۔

Tweet URL

اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے 'ڈبلیو ایچ او' کے انتظامی ڈھانچے، ہنگامی اقدامات کے نظام، مالیاتی طریقہ ہائے کار اور دیگر شعبوں میں بہتری کے لیے متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں اور مزید اصلاحات کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ادارے میں ایک نیا سائنسی ڈویژن قائم کیا گیا ہے تاکہ معیاری اور تکنیکی کام کو یکجا اور مضبوط بنایا جا سکے، سائنسی شواہد تیار کرنے کا عمل بہتر ہو سکے اور طبی مصنوعات کی منظوری کے طریقہ کار کو وقت کے تقاضوں کے مطابق رہنمائی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔

عالمگیر طبی تحفظ

ڈائریکٹر جنرل نے چھ شعبوں کا بھی ذکر کیا جہاں ادارے نے کووڈ-19 وبا کے دوران عالمگیر طبی تحفظ کو لاحق مسائل دور کرنے کے اقدامات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ: 

  • وباؤں سے متعلق اطلاعات کی فراہمی کے لیے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں 'ڈبلیو ایچ او' کا مرکز قائم کیا گیا تاکہ خطرات کی نگرانی اور ان سے فوری طور پر نمٹنے کی کارروائیوں کو ممکن بنایا جا سکے۔
  • ویکسین، تشخیصی سہولیات اور علاج تک رسائی میں گہری عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے گئے۔
  • عالمی بینک کے اشتراک سے وباؤں سے نمٹنے کے فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے ذریعے اب تک 128 ممالک کو 1.4 ارب ڈالر کی گرانٹ دی جا چکی ہیں۔
  • سوئزرلینڈ میں 'حیاتیاتی مرکز' کے قیام کے ذریعے بیماری پھیلانے والے جراثیموں کے عالمی تبادلے اور ہم آہنگی کو بہتر بنانے کا قدم اٹھایا گیا۔
  • گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی کورکے قیام سے ہنگامی طبی عملے کی صلاحیتوں میں اضافہ ممکن ہوا۔
  • عالمگیر طبی سلامتی کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا تاکہ تمام کوششوں  کو ایک جامع اور مربوط فریم ورک کا حصہ بنایا جا سکے۔

خودمختاری، یکجہتی اور مساوات 

ڈاکٹر ٹیڈروز نے بتایا کہ 1950 میں ادارے کے قیام کے وقت رضاکارانہ عطیات اس کے بجٹ کا تقریباً 20 فیصد تھے لیکن 2017 تک یہ بڑھ کر 80 فیصد ہو گئے۔ عطیات عموماً مخصوص منصوبوں اور پروگراموں کے لیے مختص ہوتے ہیں جن کا انتخاب عطیہ دہندگان کرتے ہیں اور اس وجہ سے ادارہ ان کی بدلتی ترجیحات اور جغرافیائی سیاسی اتار چڑھاؤ کے اثرات کا شکار ہو جاتا ہے۔ 

اسی تناظر میں انہوں نے 2022 میں 'ڈبلیو ایچ او' کی اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے منصوبے کا ذکر کیا جس کے تحت لازمی مالی شراکت کو ادارے کے بنیادی بجٹ کے 50 فیصد تک بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ عمل پانچ مراحل میں مکمل ہو گا جن میں سے دو مراحل پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ تنظیم نوکے دوران ادارے کو اپنے کئی مخلص اور محنتی ملازمین کو الوداع کہنا پڑا تاہم اب یہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور 'ڈبلیو ایچ او' استحکام کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ادارے میں اصلاحات کا عمل جاری رہے گا تاکہ اسے مزید موثر، فعال اور اپنے بنیادی مشن پر مرکوز بنایا جا سکے۔

رکن ممالک کی جانب سے اسمبلی میں ان معاملات پر غور کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ یہ  تبدیلی کا وقت ہے اور دنیا کو خودمختاری، یکجہتی اور مساوات کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔