ڈرون اور مصنوعی ذہانت سے نیوکلیئر دہشت گردی کے خطرے میں اضافہ
عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی وسیع تر دستیابی نے جوہری دہشت گردی کے خطرے کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔
ایسے کسی حملے کے انسانی، ماحولیاتی اور معاشی اثرات پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عالمگیر امن و سلامتی کو نقصان پہنچے گا بلکہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال پر اعتماد بھی متزلزل ہو جائے گا۔
اگرچہ جوہری دہشت گردی کی کوئی واضح اور متعین تعریف موجود نہیں، تاہم اس میں 'ڈرٹی بم' کے استعمال سے لے کر جوہری بجلی گھروں پر حملے، چوری شدہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال یا دیسی ساختہ جوہری آلات کے دھماکے شامل ہو سکتے ہیں۔
محدود امکان اور وسیع تباہی
80 سال قبل جوہری ٹیکنالوجی کے آغاز کے بعد آج تک کوئی جوہری دہشت گرد حملہ نہیں ہوا۔ اسی لیے اس خطرے کو امکان کے لحاظ سے کم مگر اثرات کے لحاظ سے انتہائی تباہ کن قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دہشت گرد گروہ ایسے حملوں کی کوشش نہیں کر رہے۔
نیویارک میں نائن الیون کے حملوں کی ذمہ دار دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے بارہا جوہری دہشت گردی کے ارادے ظاہر کیے ہیں۔ علاوہ ازیں، کئی ایسے واقعات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں تابکار مواد چوری ہوا یا سمگل کیا گیا۔
2021 میں تاجکستان نے یورینیم ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل 133 گولیاں چوری ہونے کی اطلاع دی جنہیں ممکنہ طور پر ملک کے اندر یا افغانستان میں سمگل کیا جانا تھا جہاں القاعدہ کی موجودگی مضبوط سمجھی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز(یو این سی سی ٹی) کے ڈائریکٹر ماؤرو میڈیكو سمجھتے ہیں کہ جوہری دہشت گردی کا خطرہ آج پہلے سے کہیں بڑھ گیا ہے۔ دہشت گرد تنظیموں نے ماہرین، حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت کے ماہر بھی بھرتی کیے ہیں۔ دہشت گرد کارروائیوں میں ڈرون استعمال کیے جا رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ وہ کسی ڈرٹی بم کو بھی ڈرون کے ذریعے استعمال کر سکتے ہیں۔
جوہری سلامتی کی بنیاد
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشت گردی کے مطابق، جوہری اور دیگر تابکار مواد سے متعلق دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی قانونی نظام کو مضبوط بنانا رکن ممالک اور عالمی برادری کی اہم ترجیح ہے۔
گزشتہ دنوں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے(این پی ٹی) کے جائزہ اجلاس میں ہونے والی ایک نشست میں ماؤرو میڈیكو سمیت مقررین نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد بین الاقوامی کنونشن برائے انسداد جوہری دہشت گردی (آئی سی ایس اے این ٹی) کا حصہ بن جائیں۔
یہ کنونشن جوہری سلامتی کے عالمی نظام کا بنیادی ستون ہے جو کہ جوہری دہشت گردی کے اقدامات کو جرم قرار دینے اور اس خطرے کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تکنیکی صلاحیتوں کا فقدان
اگرچہ یہ کنونشن 21 سال قبل منظور ہونے کے بعد وسیع حمایت حاصل کر چکا ہے، مگر اب بھی تقریباً 66 ممالک اس کا حصہ نہیں ہیں۔ ماؤرو میڈیكو کے مطابق، اس کی وجہ سیاسی عزم کی کمی نہیں بلکہ تکنیکی صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسداد دہشت گردی (یو این او سی ٹی) اس معاملے میں یورپی یونین کے اشتراک سے حکومتوں کی معاونت کر رہا ہے تاکہ وہ اس کنونشن میں شامل ہوں اور اس پر مکمل عملدرآمد کر سکیں۔
یہ کنونشن بین الاقوامی قانونی نظام میں پائے جانے والے خلا کو پر کرتا اور دہشت گردانہ مقاصد کے لیے جوہری یا دیگر تابکار مواد کے استعمال کو باقاعدہ جرم قرار دیتا ہے۔ کنونشن تحقیقات، مقدمات، حوالگی ملزمان اور باہمی قانونی معاونت میں بین الاقوامی تعاون کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
ابتدائی برسوں میں اس کنونشن میں شمولیت کی رفتار تیز تھی جو اب سست پڑ گئی ہے جس کا سبب عالمی قانونی نظام میں پائے جانے والے سقم ہیں۔
ماؤرو میڈیكو کہتے ہیں کہ اب تک جوہری دہشت گردی کی کوئی مثال سامنے نہیں آئی اور اس کی ایک وجہ موجودہ حفاظتی نظام ہیں، لیکن رکن ممالک کو ایسی کوششوں میں مسلسل مدد دینا ہو گی تاکہ ایسا کبھی نہ ہو سکے۔