انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایشیا الکاہل: آبنائے ہرمز بحران سے متاثرہ کسانوں کو یو این ادارے کی مدد

مونویا، میانمار میں ایک شخص اپنے کندھے پر ایک بیگ اٹھائے ہوئے ہے، جس کے پس منظر میں ایک جھیل ہے۔
© FAO/Hkun Lat ایفیڈ خطے کے 20 ممالک میں کسانوں کو مالی امداد، قرضے اور رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

ایشیا الکاہل: آبنائے ہرمز بحران سے متاثرہ کسانوں کو یو این ادارے کی مدد

از سنبل فاطمہ
معاشی ترقی

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث جنم لینے والا آبنائے ہرمز کا بحران ایشیائی الکاہل کے ممالک میں زرعی شعبے پر خطرناک اثرات مرتب کر رہا ہے جہاں کھاد کی قلت پیدا ہو رہی ہے جس کا 80 فیصد آبنائے ہرمز سے آتا ہے۔

بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (آئی ایف اے ڈی) میں ایشیائی الکاہل خطے کی علاقائی ڈائریکٹر ریحانہ رفعت رضا نے کہا ہے کہ بحری راستوں میں آنے والی رکاوٹوں سے خطے میں چھوٹے کسان بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ برس میں یہ ان کے لیے تیسرا بڑا بحران ہے۔ ایسے حالات سے نمٹںے کے لیے زرعی طریقہ کار میں تبدیلی لانا ہو گی۔

آئی ایف اے ڈی کی علاقائی ڈائریکٹر ریحانا رفعت رضا نئی دہلی میں دیہی خوشحالی کے لیے آئی ایف اے ڈی-بھارت پارٹنرشپ ایونٹ کے دوران ایک منبر سے خطاب کر رہی ہیں۔
© UN India/Shachi Chaturvedi آئیفیڈ کی ایشیا الکاہل خطے کے لیے ڈائریکٹر ریحانہ رفعت رضا یو این نیوز سے بات کر رہی ہیں۔

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ادارے کی کانفرنس کے موقع پر انہوں نے یو این نیوز ہندی کی انشو شرما سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'آئی ایف اے ڈی' خطے کے 20 ممالک میں کسانوں کو مالی امداد، قرضوں کی فراہمی اور رہنمائی کے ذریعے محفوظ و مضبوط زرعی طریقہ ہائے کار اختیار کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

اس ضمن میں کسانوں کو مقامی حیاتیاتی ماحول کے مطابق کھادیں استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جس کے نتیجے میں بحران سے پیدا ہونے والے دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالنے میں مدد ملی ہے۔ ہنگامی صورتحال یا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے زرعی شعبے کو مالی مدد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ابتداً منظور شدہ قرضوں کی حکومتوں کو باآسانی دستیابی کے لیےکام کیا جا رہا ہے۔

ریحانہ رفعت رضا کا انٹرویو سنیئے

Audio file

 موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لائحہ عمل

ریحانہ رفعت نے موسمیاتی تبدیلیوں سے کسانوں کو پیش آنے والے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے مالی وسائل کا تقریباً 45 فیصد موسمیاتی موافقت کے لیے مختص ہے اور اس میں چھوٹے کسانوں کی ضروریات کو خاص طور پر مدنظر رکھا جاتا ہے۔ 

اس میں کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ دینے کے لیے ٹیکنالوجی، علم اور مدد کی فراہمی اور موسمیاتی موافقت کے لیے بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ یہ کام اس انداز میں کیا جاتا ہے کہ کسانوں کے پاس ایسی موافقتی صلاحیت ہو جو انہیں موسمیاتی تبدیلیوں اور مستقبل کے دھچکوں سے نمٹنے کے لیے درکار ہے۔ ادارہ اپنے تمام منصوبوں میں مضبوط اور زیادہ مستحکم غذائی نظام بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

بنگلہ دیشی خاتون رنگ برنگی ساڑی میں دھات کے پانی دینے والے برتن سے کھیت کو پانی دے رہی ہیں۔
© IFAD/GMB Akash بنگلہ دیش میں کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحم فصلیں اُگا رہے ہیں۔

خواتین کی بااختیاری اہم

ریحانہ رفعت رضا نے زرعی شعبے میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر جنوبی ایشیا میں گھریلو صورتحال، خواتین کی کمزوری اور عدم مساوات حقیقی مسائل ہیں۔ لہٰذا، ادارے کے منصوبے خواتین کی آواز، خودمختاری، منڈیوں تک رسائی اور وسائل تک رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ حد تک خودکفیل ہوں اور معقول آمدنی پا سکیں۔ اس طرح، گھریلو سطح پر تحفظ خوراک کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔