نہ میرا وطن سوٹ کیس نہ میں مسافر: نکبہ کی برسی پر یو این میں تقریب
فلسطینیوں کے ناقابل تنسیخ حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے آج نکبہ کی 78ویں برسی منائی جس کا مقصد اس المناک سانحے کو یاد کرنا اور فلسطینی عوام کی متواتر مشکلات کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانا تھا۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ تقریب میں ادارے کی جنرل اسمبلی کی صدر اینا لینا بیئربوک نے کہا کہ ماضی کی ناکامیاں مستقبل میں بے عملی کا جواز نہیں بن سکتیں۔ اقوام متحدہ پر گزشتہ 78 برس سے مسئلہ فلسطین کے حل کی ذمہ داری ہے اور اسے اپنے منشور، بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں معروف فلسطینی شاعرمحمود درویش کا شعر پڑھا کہ 'میرا وطن کوئی سوٹ کیس نہیں اور نہ ہی میں کوئی مسافر ہوں'۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مصرع اور اس جیسے کئی دوسرے اشعار نکبہ کے بعد فلسطینی عوام کے دردناک حالات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ 1948 سے اب تک لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، ان کے گھر تباہ کر دیے گئے اور ان کی زندگیاں اور روزگار برباد ہو گئے۔
نکبہ کیا ہے؟
یہ سالانہ تقریب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 30 نومبر 2022 کو منظور کی گئی قرارداد کے تحت منعقد کی جاتی ہے جبکہ پہلی یادگاری تقریب 2023 میں ہوئی تھی۔ اس موقع پر نکبہ کے متاثرین اور عینی شاہدین کی گواہیاں اور اس سانحے سے متعلق واقعات بھی سنائے کیے گئے۔
نکبہ کا مطلب 'قیامت کبریٰ' ہے اور یہ دن اسرائیل کے قیام کے بعد 1948 میں سات لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکالے جانے کی المناک یاد کے طور پر ہر سال 15 مئی کو منایا جاتا ہے۔ اس دوران فلسطینیوں کے سیکڑوں دیہات خالی کرا لیے گئے یا انہیں تباہ کر دیا گیا۔ ان واقعات میں تقریباً 15 ہزار فلسطینیوں کی ہلاکت ہوئی۔
پناہ گزینوں کا طویل ترین بحران
اقوام متحدہ کے شعبہ قیام امن و سیاسی امور میں مشرق وسطیٰ، ایشیا اور الکاہل کے لیے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نکبہ صرف تاریخی واقعہ نہیں بلکہ یہ دنیا میں پناہ گزینوں کا طویل ترین بحران ہے۔ یہ ایک ایسا دردناک اور حل طلب مسئلہ ہے جو فلسطینی عوام کی شناخت اور زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے اور انہیں انصاف اور حق خودارادیت کے حصول کی مسلسل جدوجہد پر مجبور رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نکبہ کی یادگاری تقریبات محض ماضی کی ناکامیوں کو دہرانے تک محدود نہیں ہونی چاہییں بلکہ انہیں اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی پکار بننا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو وہ ناانصافیاں نہ سہنا پڑیں جو ان سے پہلے لوگوں نے برداشت کیں۔
تاریخی ناانصافی کا اعتراف
فلسطین کے صدر محمود عباس نے بھی تقریب کے لیے پیغام بھیجا جسے اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کے مستقل مبصر ریاض منصور نے پڑھ کر سنایا۔
محمود عباس نے کہا کہ نکبہ کی یاد منانا فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کا اعتراف ہے جو جو اپنی سرزمین سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ یہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے ازالے کی جانب ایک مثبت قدم بھی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ باوقار اور ثابت قدم فلسطینی عوام کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کے حق خودارادیت، آزادی، اپنے گھروں کو واپسی اور اپنی سرزمین پر خودمختاری کے فطری حق سے انکار کیا جا سکتا ہے۔
فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی عوام کو ان کے حقوق دیے بغیر امن اور سلامتی کا حصول ممکن ہے وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ اسرائیل نے یہ سمجھا کہ وہ فلسطینیوں کے وجود کو مٹا دے گا اور ان کی زمین، ثقافت اور ورثہ ان سے چھین لے گا لیکن فلسطینی آج بھی قائم ہیں اور نکبہ کی راکھ سے دوبارہ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
تقریب کی مکمل ویڈیو کوریج دیکھیے