انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شام کی بہتر ہوتی صورتحال کو وسائل کی کمیابی سے خطرہ، ٹام فلیچر

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے میز پر بیٹھے نمائندے شام کے حوالے سے ایک اجلاس کے دوران، جبکہ کلاؤڈیو کورڈون اسکرینوں پر ظاہر ہو رہے ہیں۔
UN Photo/Manuel Elías شام کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا ایک وسیع منظر۔

شام کی بہتر ہوتی صورتحال کو وسائل کی کمیابی سے خطرہ، ٹام فلیچر

انسانی امداد

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نےکہا ہے کہ شام میں تشدد کی شدت کم ہوئی ہے اور انسانی امداد کی رسائی میں بھی بہتری آنے لگی ہے لیکن وسائل کی کمی اور بحالی کے عمل میں تاخیر سے یہ پیش رفت ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو شام کے حالات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی کو امداد کی ضرورت ہو گی جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ لیکن موجودہ مالی وسائل کو دیکھتے ہوئے صرف نصف ضرورت مند لوگوں کو ہی مدد دی جا سکتی ہے۔

Tweet URL

انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے بدترین اثرات ان لوگوں پر مرتب ہو رہے ہیں جو پہلے ہی بقا کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

ملک کے لیے دستیاب امدادی وسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نصف سال گزر جانے کے باوجود شام کے لیے انسانی امداد کی اپیل پر اب تک صرف 16 فیصد سے کچھ زیادہ وسائل ہی مہیا ہو سکے ہیں۔ اس امداد کا تقریباً 90 فیصد حصہ امریکہ، یورپی ممالک، جاپان اور کینیڈا کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے۔ ان حالات میں عالمی برادری کی جانب سے شام کی عملی اور ٹھوس مدد جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ انسانی بحران میں کمی لائی جا سکے۔

ٹام فلیچر نے کہا کہ وسائل کی کمی کے باعث رواں ہفتے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کو شام میں ہنگامی غذائی امداد میں 50 فیصد تک کمی کرنا پڑی جبکہ سستی روٹی فراہم کرنے کا ملک گیر پروگرام بھی معطل کرنا پڑا جس سے روزانہ لاکھوں افراد مستفید ہو رہے تھے۔

بحالی پر سرمایہ کاری

ٹام فلیچر نے کونسل کو بتایا کہ استحکام کے لیے بحالی کے عمل میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے کیونکہ 2025 میں 34 لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور اندرون ملک بے گھر افراد کے اپنے گھروں کو واپس آنے کی توقع ہے۔ اس وقت یہ سلسلہ جاری ہے اور رواں سال کے پہلے چار ماہ میں ہی تین لاکھ پندرہ ہزار سے زیادہ مہاجرین واپس آ چکے ہیں۔

واپس آنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ادارہ جاتی استحکام اور انسانی امداد تک رسائی میں اضافے سے موقع دکھائی دیا ہے کہ اب طویل مدتی امدادی مرحلے سے آگے بڑھا جا سکے۔ مگر یہ اسی صورت ممکن ہو گا جب اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے گا تاکہ واپس آنے والے پناہ گزین باوقار انداز میں اپنی زندگیاں دوبارہ تعمیر کر سکیں۔

درست فیصلوں کی ضرورت

امدادی امور کے انڈر سیکرٹری جنرل نے کہا کہ شامی حکومت کی ترجیحات واضح ہیں اور اس کے پاس آگے بڑھنے کا تصور موجود ہے جس کے ذریعے ملک کو طویل امدادی انحصار سے نکال کر پائیدار اور قومی خود انحصاری کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری درست فیصلے کرے تو شامی عوام پائیدار امن، انصاف اور بہتر مواقع کی امید رکھ سکتے ہیں۔ اگر امدادی مشن کی تکمیل اور بحالی و استحکام کے لیے مالی وسائل مہیا نہ ہو سکے تو ملک بدترین بحرانوں کا شکار ہو سکتا ہے۔