انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان اور فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں سے انسانی بحران بد سے بدتر

خان یونس، غزہ میں ایک شخص تباہ شدہ الحلو بیکری کے کھنڈروں سے گزرا۔
© WFP/Maxime Le Lijour جنگ میں غزہ کی زیادہ تر آبادی بے گھر ہو گئی ہے۔

لبنان اور فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں سے انسانی بحران بد سے بدتر

امن اور سلامتی

غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث شہریوں کو مسلسل بڑھتی مشکلات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے بتایا ہے کہ نقل مکانی نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جبکہ امدادی سرگرمیاں محدود وسائل کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

ان علاقوں میں انسانی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، غزہ کی زیادہ تر آبادی بے گھر ہو گئی ہے جو طبی و ماحولیاتی خطرات سے دوچار ہے جبکہ رہائشی علاقوں پر حملے بدستور جاری ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، غزہ میں 43 ہزار سے زیادہ لوگ ایسے زخموں کا شکار ہوئے ہیں جن کے اثرات پوری زندگی باقی رہ سکتے ہیں، جبکہ بحالی و علاج کی سہولیات پر پہلے ہی گنجائش سے کہیں زیادہ بوجھ ہے۔

اشد ضرورت کے باوجود امدادی سامان انتہائی محدود مقدار میں غزہ پہنچ رہا ہے۔ مئی کے ابتدائی 11 ایام میں مصر سے آنے والے ہر دو امدادی ٹرکوں میں سے ایک ہی غزہ کی سرحد پر سامان اتارنے میں کامیاب ہو سکا۔ تمام رکاوٹوں کے باوجود امدادی ادارے غزہ میں روٹی کی پیداوار بڑھانے اور مقامی منڈیوں کی ابتدائی بحالی کے لیے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔

آباد کاروں کا بڑھتا تشدد

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ 2020 کے بعد ایسے واقعات 14 گنا بڑھ گئے ہیں جن میں فلسطینیوں کی زندگی یا املاک کو نقصان پہنچا۔ 

مغربی کنارے میں 5 سے 11 مئی کے درمیان فلسطینیوں کی ملکیت 45 عمارتیں مسمار کی گئیں جن میں سے 90 فیصد زراعت، روزگار، پانی یا صفائی ستھرائی کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

لبنان میں تشویشناک حالات

17 اپریل سے نافذ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں شہریوں کو اسرائیل کے مسلسل فضائی حملوں کا سامنا ہے۔ ملک میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور امدادی رابطہ کار عمران رضا نے کہا ہے کہ ان حملوں میں مردوخواتین، بچے اور بے گھر خاندان متاثر ہو رہے ہیں جن میں شامی و فلسطینی مہاجرین اور بنگلہ دیشی تارکین وطن بھی شامل ہیں۔ امدادی کارکن بھی ان حملوں سے محفوظ نہیں۔

عمران رضا نے آج دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے دورے میں تباہی کے حجم کا جائزہ لیا اور مقامی لوگوں سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں متواتر نقل مکانی، نفسیاتی صدمات، گھروں اور روزگار کے نقصان اور بنیادی سہولیات کی تباہی سے متعلق اپنے تجربات بیان کیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں، امدادی کارکنوں اور طبی عملے کو ہر حال میں تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے جبکہ بنیادی ضرورت کی تنصیبات پر بھی حملے ممنوع ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے مابین حالیہ سفارتی کوششیں تشدد روکنے کا ایک اہم موقع ہیں۔ لبنانی عوام کو مزید تکالیف، بے گھری اور مصیبتوں کے بجائے فوری طور پر امن، استحکام اور بحالی کے مواقع درکار ہیں۔