انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نکوٹین پاؤچ کا ہدف نوجوانوں کو بنانے پر ڈبلیو ایچ او کو تشویش

ایک خاتون کے ہاتھوں میں سنس پیڈز کی ایک گول ٹن تھی، اور اس کی انگلیوں کے درمیان ایک نکوتین پیچ تھا۔
© Adobe Stock نکوٹین پاؤچ چھوٹے ساشے کی شکل میں ہوتے ہیں جنہیں ہونٹ اور مسوڑھے کے درمیان رکھا جاتا ہے جہاں سے نکوٹین منہ کی جھلی کے ذریعے جسم میں جذب ہوتی ہے۔

نکوٹین پاؤچ کا ہدف نوجوانوں کو بنانے پر ڈبلیو ایچ او کو تشویش

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئنسر، موسیقی کے میلے اور تشہیری مہمات نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر نکوٹین پاؤچ (تھیلی) کے استعمال کا سبب ہیں اور اس سے صحت عامہ پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ادارے نے اس مسئلے پر جاری کردہ اپنی نئی رپورٹ میں ایسے پُر فریب حربوں کی نشاندہی کی ہے جن کے ذریعے نوجوانوں کو نکوٹین کی جانب راغب کر کے منافع کمایا جاتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر تشہیر اور نوجوانوں کو متوجہ  کرنے والے اشتہارات کے علاوہ نکوٹین کی بعض مصنوعات کی پیکنگ مٹھائیوں یا کینڈی کے برانڈ جیسی بنائی جاتی ہے جس سے بچوں کے لیے بھی خطرات بڑھ رہے ہیں۔

Tweet URL

نکوٹین پاؤچ چھوٹے ساشے کی شکل میں ہوتے ہیں جنہیں ہونٹ اور مسوڑھے کے درمیان رکھا جاتا ہے جہاں سے نکوٹین منہ کی جھلی کے ذریعے جسم میں جذب ہوتی ہے۔ ان میں نکوٹین کے علاوہ ذائقہ بڑھانے والے اجزا، مٹھاس پیدا کرنے والے مادے اور دیگر کیمیکل شامل ہوتے ہیں۔

یہ رپورٹ تمباکو کے خلاف عالمی دن سے قبل جاری مہم کا حصہ ہے جو ہر سال 31 مئی کو منایا جاتا ہے۔ نکوٹین اور تمباکو کی لت پر قابو پانے اور نوجوانوں کو اس کا عادی بنانے کے صنعتی حربوں کا تدارک کرنا امسال اس دن کا خاص موضوع ہے۔

بڑھتی فروخت، محدود قوانین

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، 2024 میں ان مصنوعات کی خریدوفروخت 23 ارب یونٹ سے تجاوز کر گئی جو 2023کے مقابلے میں نصف سے بھی زیادہ اضافہ تھا۔ 2025 میں ان چیزوں کی عالمی منڈی کی مالیت تقریباً 7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

فروخت میں اضافے کے ساتھ ان مصنوعات کے حوالے سے موثر قوانین بنانے کی رفتار نہایت سست ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ان سے متعلق ضابطے نہ ہونے کے برابر ہیں یا سرے سے ہی موجود نہیں۔ تقریباً 160 ممالک میں نکوٹین پاؤچ پر پابندی یا اس کی نوعمر افراد کو فروخت روکنے کے بارے میں کوئی مخصوص قانون موجود نہیں جبکہ صرف 16 ممالک نے ان کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی ہے اور 32 ممالک کسی نہ کسی حد تک انہیں ضابطوں کے تحت لائے ہیں۔ 

جن ممالک میں اس بارے کچھ قوانین موجود ہیں ان میں بھی صرف پانچ ایسے ہیں جہاں ذائقہ دار نکوٹین پر پابندی لگائی گئی ہے، 26 ممالک میں اس کی نابالغوں کو فروخت روکنے کے قوانین موجود ہیں جبکہ 21 ممالک نے نکوٹین کے اشتہارات، تشہیر اور سپانسرشپ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' کے انسداد تمباکو نوشی سے متعلق اقدام کے سربراہ ونائیک پرساد نے کہا ہے نکوٹین پاؤچ کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے جبکہ ضابطہ سازی اس رفتار کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے فوری طور پر مضبوط اور سائنسی شواہد پر مبنی حفاظتی اقدامات نافذ کریں۔

طویل المدتی اور وسیع طبی خطرات

'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ نکوٹین بذات خود انتہائی لت پیدا کرنے والا مادہ ہے جو خاص طور پر بچوں، نو عمر افراد اور نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ ان کے دماغ نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں۔

نوجوانی میں نکوٹین کا استعمال توجہ، سیکھنے کی صلاحیت اور دماغی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے جبکہ کم عمری میں اس کا استعمال مستقبل میں مستقل لت اور تمباکو یا دیگر نکوٹین مصنوعات کے استعمال کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔

نوجوانوں کے لیے تشہیری ہتھکنڈے

رپورٹ میں تشہیر کے ایسے متعدد حربوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو نوجوان صارفین کو راغب کرنے کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں درج ذیل خاص طور پر قابل ذکر ہیں: 

  • شوخ رنگوں والی، دیدہ زیب اور خفیہ انداز میں پیکنگ
  • ببل گم اور گمی بیئر کینڈی جیسے میٹھے ذائقے
  • سوشل میڈیا پر مقبول شخصیات کے ذریعے اور آن لائن تشہیر 
  • موسیقی کے پروگراموں، میلوں اور کھیلوں کی تقریبات کی سپانسرشپ 
  • پرتعیش اور دلکش طرز زندگی دکھانے والے اشتہارات
  • سکولوں اور دھویں سے پاک مقامات پر نکوٹین کے خفیہ استعمال کی ترغیب دینے والے پیغامات

'ڈبلیو ایچ او' کی سفارشات

'ڈبلیو ایچ او' نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تمباکو اور نکوٹین کی تمام مصنوعات، بشمول نکوٹین پاؤچ پر پابندی کے لیے جامع قوانین نافذ کریں۔ اس حوالے سے ادارے نے درج ذیل اقدامات کی سفارش کی ہے:

  • مختلف اقسام کے ذائقوں والی نکوٹین پر پابندی کا نفاذ 
  • سوشل میڈیا پر اشتہارات، سپانسرشپ اور تشہیری مہمات روکنے کے اقدامات 
  • عمر کی سخت جانچ اور فروخت کے موثر ضوابط کا نفاذ 
  • نکوٹین مصنوعات کی سادہ پیکنگ اور واضح طبی انتباہات سے متعلق قوانین 
  • نکوٹین کی مقدار سے متعلق حدود کا تعین 
  • قیمتیں بڑھانے اور نوجوانوں کی پہنچ کم کرنے کے لیے نکوٹین مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ
  • نکوٹین کے استعمال کے رجحانات اور تشہیر  کی نگرانی، اور 
  • قوانین پر سختی سے عملدرآمد