انسانی کہانیاں عالمی تناظر

صنفی شناخت اور جنسی رحجانات پر متعصبانہ قوانین کے خاتمے کا مطالبہ

لندن میں صاف نیلے آسمان کے خلاف رنگین پرائیڈ کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔
Unsplash/Daniel James حالیہ عرصہ میں 'ایل جی بی ٹی کیو آئی پلس' لوگوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

صنفی شناخت اور جنسی رحجانات پر متعصبانہ قوانین کے خاتمے کا مطالبہ

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ 'ایل جی بی ٹی کیو آئی پلس' افراد کے خلاف تشدد، امتیازی سلوک اور متعصبانہ قوانین کا خاتمہ کرتے ہوئے ان کے حقوق کی پامالی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

ہائی کمشنر نے ہم جنس پرست، دو جنسی رجحان کے حامل اور ٹرانس جینڈر افراد سے نفرت کے خلاف 17 مئی کو منائے جانے والے عالمی دن کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آن لائن نفرت اور بدسلوکی کے خلاف موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ ریاستوں کو یقینی بنانا ہو گا ان لوگوں کو سیاست، کاروبار، ثقافت اور تعلیم سمیت ہر شعبے میں بھرپور شرکت کا حق حاصل ہو اور اس کا تحفظ کیا جائے۔ 

انہوں نے کہا ہے کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے جب معاشرے ایسے افراد کے خلاف نفرت اور امتیاز کو معمول بنا لیتے ہیں تو اس سے وسیع تر جبر اور ناانصافی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ جو معاشرے تنوع اور سب کے لیے مساوی حقوق کو قبول کرتے ہیں وہ زیادہ اختراعی، زیادہ تخلیقی، مضبوط اور پرامن ہوتے ہیں۔

حقوق کے لیے پیش رفت

وولکر ترک نے کہا ہے کہ صدیوں سے لوگ طاقت کے مضبوط ڈھانچوں اور جابرانہ نظام کے خلاف آواز اٹھاتے آئے ہیں اور سب کے لیے برابری کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ایل جی بی ٹی آئی کیو+ برادریوں نے دہائیوں سے اس جدوجہد میں رہنمائی فراہم کی ہے۔

حالیہ عرصہ میں 'ایل جی بی ٹی کیو آئی پلس' لوگوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ 

سینٹ لوشیا نے باہمی رضامندی سے قائم کیے گئے ہم جنس تعلقات کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا۔ بوٹسوانا نے عدالتی فیصلوں کے بعد ہم جنس تعلقات کو جرم قرار دینے والی دفعات ختم کر دیں۔ نیپال میں پہلی مرتبہ ٹرانس جیندر خاتون پارلیمان کی رکن منتخب ہوئیں۔ یورپی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا کہ ہنگری میں بچوں کے لیے جنسی رجحان اور صنفی شناخت سے متعلق مواد پر پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر ولکر ٹرک جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران ایک پوسٹ پر تقریر کر رہے ہیں۔
UN Human Rights Council/Marie Bambi اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک (فائل فوٹو)۔

جبر، تشدد اور قانونی پابندیاں

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو یقینی اور دائمی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ آزادی، مساوات اور وقار کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دنیا کے ایک تہائی سے زیادہ ممالک اب بھی باہمی رضامندی پر مبنی ہم جنس تعلقات کو جرم قرار دیتے ہیں، اور کئی ممالک میں اس کی سزا موت ہے۔ 

گزشتہ برس برکینا فاسو نے ہم جنس تعلقات کو جرم قرار دے دیا۔ سینیگال نے ہم جنس تعلقات کی سزا پانچ سال سے بڑھا کر دس سال قید کر دی۔ اسی نوعیت کے قوانین گھانا سمیت دیگر ممالک میں بھی زیرغور ہیں۔ یہ قوانین 'ایل جی بی ٹی آئی کیو آئی پلس' موضوعات سے متعلق معلومات کی ترسیل کو بھی جرم بناتے ہیں۔

بیلاروس اور قازقستان نے بھی اسی طرح کی قانونی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ کیمرون، ہنگری، انڈونیشیا، مراکش، تیونس، ترکیہ اور دیگر ممالک میں حکام نے ان افراد اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو نشانہ بنایا اور گرفتار کیا ہے۔ بعض سیاست دانوں اور رہنماؤں کی نفرت انگیز زبان ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف آن لائن بدسلوکی کو ہوا دے رہی ہے۔

آزادانہ جینے اور محبت کا حق

وولکر ترک نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 45 فیصد 'ایل جی بی ٹی' نوجوانوں نے بتایا کہ انہیں سکولوں میں ہراسانی اور غنڈہ گردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انتخابات بھی ان لوگوں کے خلاف نفرت کے میدان بنتے جا رہے ہیں۔ 2024 میں لیے گئے ایک جائزے کے مطابق، 85 فیصد ممالک میں انتخابی مہمات کے دوران ان کے خلاف نفرت پر مبنی پیغامات استعمال کیے گئے۔

یہ عالمی دن دنیا بھر میں 'ایل جی بی ٹی آئی کیو پلس' افراد اور برادریوں کی جرات، تخلیقی صلاحیتوں اور خدمات کا اعتراف اور ان لوگوں کی جرات کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو ذاتی نقصان کے خدشات کے باوجود ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ ہر انسان کو آزادانہ طور سے جینے اور محبت کرنے کا حق ہے اور اس دن پر اس حق کے تحفظ اور فروغ کے لیے آواز اٹھانے کا عہد کرنا ہو گا۔