انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایڈز کے خاتمے کی کوششیں امدادی کٹوتیوں سے متاثر ہونے کا خطرہ

ایک آدمی کے ہاتھ میں دو گلابی اور سفید گولیاں اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا سفید کپ۔
© UNAIDS دوا ہی ایڈز کے خلاف سب سے بڑا تحفظ ہے۔

ایڈز کے خاتمے کی کوششیں امدادی کٹوتیوں سے متاثر ہونے کا خطرہ

صحت

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف جنگ میں دہائیوں کی محنت سے حاصل ہونے والی کامیابیاں امدادی وسائل کی کمی کے باعث سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔

اس مرض کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ایڈز' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ونی بیانیما نے کہا ہے کہ امدادی وسائل میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کے نتیجے میں دنیا کے بعض انتہائی کمزور ممالک میں مقامی سطح پر اس بیماری کے خلاف مہیا کی جانے والی طبی خدمات بند ہونے لگی ہیں۔ ایڈز پر قابو پانے کی کوششوں میں دنیا ایسے وقت پیچھے ہٹ رہی ہے جب اسے مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

Tweet URL

انہوں نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بہت سے ممالک اب تک اس قابل نہیں ہو سکے کہ وہ انسداد ایچ آئی وی/ایڈز پروگراموں کو اپنے وسائل سے جاری رکھ سکیں جو پہلے بین الاقوامی امداد سے چل رہے تھے۔ 

دنیا بھر میں 'ایچ آئی وی' سے متاثرہ 93 لاکھ افراد اب بھی علاج شروع ہونے کے منتظر ہیں جبکہ 2024 میں ہی 13 لاکھ نئے مریض سامنے آئے تھے۔

ونی بیانیما نے خبردار کیا کہ اس بحران کے حقیقی اور سنگین نتائج ترقی پذیر ممالک میں واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وسیع پیمانے پر علاج مہیا کرنے کے اقدامات رک گئے ہیں اور 'ایچ آئی وی' کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کرنے والی مقامی تنظیمیں بند ہو رہی ہیں یا اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہیں۔

یوگنڈا میں حفاظتی دوا 'پریپ' کے استعمال میں دسمبر 2024 اور دسمبر 2025 کے درمیان 31 فیصد کمی آئی۔ یہ دوا جنسی تعلق کے ذریعے ایچ آئی وی منتقل ہونے کے خطرے کو 99 فیصد تک کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی عرصہ کے دوران برونڈی میں اس دوا کے استعمال میں 64 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ نائجیریا میں دسمبر 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان کنڈوم کی تقسیم میں 55 فیصد کمی واقع ہوئی۔

امدادی تنظیموں پر دباؤ

ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف کام کرنے والی فلاحی تنظیمیں امدادی وسائل میں کٹوتیوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ بہت سی تنظیمیں یا تو اپنی سرگرمیاں محدود کر رہی ہیں یا مکمل طور پر بند ہو رہی ہیں۔

'یو این ایڈز' جن آٹھ ممالک میں کام کر رہا ہے وہاں 'ایچ آئی وی' سے بچاؤ کی خدمات کا 99.9 فیصد حصہ بیرونی امداد سے چل رہا ہے جبکہ مقامی سطح پر صرف 0.1 فیصد وسائل ہی دستیاب ہیں۔ 

2024 میں روزانہ اوسطاً 570 لڑکیاں اور نوجوان خواتین 'ایچ آئی وی' سے متاثر ہوئیں مگر خواتین کی قیادت میں چلنے والی مددگار تنظیموں میں سے 60 فیصد یا تو وسائل سے محروم ہو چکی ہیں یا مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں۔

کمزور طبقات کا نقصان

وِنی بیانیما نے کہا ہے کہ اہم معدنیات، توانائی اور عالمی اثر و رسوخ کے لیے پراکسی جنگیں لڑی جا رہی ہیں اور ان میں غریب ترین لوگوں کے حقوق کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

کینیا میں ایسے بیشتر مراکز بند ہو چکے ہیں جو 'ایل جی بی ٹی کیو' برادری سمیت حساس طبقات کو خدمات فراہم کرتے تھے۔ نائجیریا میں بھی کم از کم پانچ ایسے کلینک بند ہو گئے ہیں۔

یوگنڈا میں کمزور طبقات کی مدد کرنے والے 45 فیصد پروگرام جزوی یا مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ زمبابوے میں گزشتہ سال جسم فروشی سے وابستہ خواتین کے لیے خدمات مکمل طور پر ختم ہو گئی تھیں۔

امید کی کرن

ونی بیانیما نے کہا کہ سائنسی ترقی کی بدولت اب بھی 2030 تک ایڈز کو صحت عامہ کے خطرے کی حیثیت سے ختم کرنے کی امید برقرار ہے۔

سائنس مسائل کے ایسے حل پیش کر رہی ہے جو 2030 تک اس وبا کو ختم کر سکتے ہیں۔ ان میں طویل اثر رکھنے والی دوا پریپ، طویل المدتی حفاظتی علاج اور ایسی ادویات شامل ہیں جن کا 10 برس پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ عرصہ کے دوران امدادی وسائل میں اچانک آںے والی کمی اور انسانی حقوق کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت دنیا کو اس ہدف سے مزید دور لے جا رہی ہے۔