یوکرینی شہریوں پر روسی حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی، یو این اہلکار
اقوام متحدہ نے یوکرین میں گزشتہ دو روز میں روس کے متواتر ڈرون اور میزائل حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں ایک نوعمر لڑکی سمیت پانچ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
ان حملوں میں روسی فوج نے یوکرین پر تقریباً 800 ڈرون اور 56 میزائل داغے جن میں بیلسٹک اور کروز میزائل بھی شامل تھے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد یہ اب تک کے شدید ترین اور طویل حملوں میں سے ایک تھے۔
اس دوران ملک بھر میں تقریباً 24 گھنٹے مسلسل بمباری ہوتی رہی۔ شہری علاقوں پر کیے گئے ان حملوں میں بنیادی سہولیات بھی متاثر ہوئیں۔ دارالحکومت کیئو کے کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی معطل ہو گئی جبکہ مختلف جگہوں پر ٹریفک کی آمد و رفت محدود کر دی گئی۔
حملوں سے متاثرہ مقامات میں رہائشی عمارتیں، ایک سکول، ویٹرنری کلینک اور دیگر شہری تنصیبات شامل ہیں۔ اسی نوعیت کے حملے کریمینچوک میں توانائی کے ڈھانچے جبکہ چورنومورسک میں بندرگاہ اور رہائشی علاقوں پر بھی کیے گئے۔
جمعرات کی صبح مزید حملوں کے خدشات کے باوجود اقوام متحدہ کا عملہ اور مقامی حکام امدادی کارروائیاں انجام دیتے رہے۔
رابطہ کار نے کہا ہے کہ شہریوں کو جنگی کارروائیوں میں تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ ماؤں کو یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ آیا ان کے بچے ان حملوں کے بعد ملبے تلے زندہ ہیں یا نہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں کا تحفظ لازمی ہے اور انہیں کبھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
شہری ہلاکتوں میں اضافہ
رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران یوکرین میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد گزشتہ تین برس کے اسی عرصہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔
یوکرین انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے نگران مشن (ایچ آر ایم ایم یو) نے کہا ہے کہ اس کی بڑی وجہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ صرف اپریل میں ہی ایسے ہتھیاروں کے حملوں میں کم از کم 84 شہری ہلاک اور 628 زخمی ہوئے جو مجموعی شہری جانی نقصان کا 43 فیصد ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار یوکرین میں شہری ہلاکتوں کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ گنجان آبادی والے علاقوں میں ان کے بڑھتے ہوئے استعمال سے شہریوں کی مشکلات اور جانی نقصان میں مزید اضافہ ہو گا۔
ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید جانیں بچائی جا سکیں اور انسانی تکالیف کو روکا جا سکے۔