انسانی کہانیاں عالمی تناظر

امدادی سرگرمیوں کے لیے اضافی 1.8 ارب ڈالر امریکی فنڈنگ کا خیرمقدم

اقوام متحدہ کے نائب سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر، امریکی سفیر مائیک والٹز، اور جیریمی پی لیون جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں انسانی امداد کی مالی اعانت کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں موجود تھے۔
UN Photo/Eskinder Debebe ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار ٹام فلیچر (درمیان میں) امریکہ کے سفیر مائیک والٹز اور نائب وزیر برائے بیرونی امداد، انسانی امور و مذہبی آزادی جیریمی لیون کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

امدادی سرگرمیوں کے لیے اضافی 1.8 ارب ڈالر امریکی فنڈنگ کا خیرمقدم

انسانی امداد

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے امریکہ کی جانب سے امدادی مقاصد کے لیے مزید 1.8 ارب ڈالر فراہم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وسائل دنیا کے انتہائی سنگین بحرانوں میں لاکھوں افراد کو ضروری مدد پہنچانے کے کام آئیں گے۔

اس اقدام کے بعد اقوام متحدہ کے امدادی نظام کے لیے امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے وسائل کا مجموعی حجم 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ قبل ازیں، امریکہ نے دسمبر میں دو ارب ڈالر کی امداد جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حالیہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بڑھتی ہوئی عالمی ضروریات اور مالی وسائل کی کمی کے باعث امدادی ادارے اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہیں۔

Tweet URL

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے اس امداد کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت امدادی ادارے شدید دباؤ، وسائل کی کمی حتیٰ کہ حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز اور نائب وزیر برائے بیرونی امداد، انسانی امور و مذہبی آزادی جیریمی لیون کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ امداد لاکھوں جانیں بچانے میں مدد دے گی۔ یہ وسائل ایسے وقت فراہم کیے جا رہے ہیں جب دنیا بھر میں تنازعات، نقل مکانی، موسمیاتی آفات اور عطیہ دہندگان کے کم ہوتے بجٹ کے باعث امدادی اداروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 23 کروڑ 90 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں۔

18 بحرانوں میں امدادی اقدامات

ٹام فلیچر نے بتایا کہ دسمبر میں اعلان کیے گئے ابتدائی 2 ارب ڈالر کے ذریعے 2026 کے پہلے چار ماہ میں ایک کروڑ 44 لاکھ افراد تک ضروری مدد پہنچائی جا چکی ہے۔یہ ایک ایسی کامیابی ہے جس پر سب کو فخر ہونا چاہیے۔ 

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا)کے مطابق، اس پہلے امدادی پیکیج کو مختلف خطوں میں موجود 18 بحرانوں کے لیے مختص کیا گیا تھا جس سے ان ممالک میں مشترکہ امدادی فنڈ کی دستیاب رقم تین گنا بڑھ گئی۔ ان میں چھ بحران ایسے تھے جن سے نمٹنے کے لیے سال کے آغاز پر امدادی فنڈ موجود نہیں تھے۔

رواں ہفتے تک اس امداد میں سے 1.71 ارب ڈالر مختلف منصوبوں پر خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے اور ان کے شراکت دار صرف امریکی امداد کے ذریعے ہی 2 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ لوگوں تک مدد پہنچانے کا ہدف رکھتے ہیں۔

60 لاکھ افراد کو خوراک کی فراہمی

ٹام فلیچر نے بتایا کہ اب تک فراہم کی جانے والی امداد میں 60 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو خوراک مہیا کی گئی اور ایک کروڑ چار لاکھ افراد کو صاف پانی تک رسائی دی گئی۔ ان وسائل کے ذریعے 690 سے زیادہ طبی مراکز کی معاونت بھی کی جا رہی ہے اور سات لاکھ 79 ہزار سے زیادہ خاندانوں کو براہ راست امداد فراہم کی جا چکی ہے۔

تقریباً تین لاکھ لڑکیوں اور دو لاکھ 66 ہزار لڑکوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کی سہولت دی جا رہی ہے۔ امداد کا ایک حصہ خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ خصوصاً جنسی تشدد کا شکار افراد کی مدد کے لیے بھی مختص کیا گیا ہے۔

موثر اور شفاف امدادی نظام

ٹام فلیچر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے امدادی نظام کو زیادہ موثر، جوابدہ اور مقامی سطح پر بااختیار بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل تیز کر دیا ہے۔ امدادی اداروں نے غیر ضروری دفتری پیچیدگی کو کم کیا ہے، وسائل کی تقسیم کے عمل میں تیزی لائے ہیں اور ایک آن لائن نظام کے ذریعے شفافیت میں اضافہ کیا گیا ہے جس کی بدولت یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ امدادی رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ انسانی ضروریات اب بھی دستیاب وسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔ اقوام متحدہ کو روال سال دنیا بھر میں آٹھ کروڑ 70 لاکھ افراد تک ضروری امداد پہنچانے کے لیے 23 ارب ڈالر درکار ہیں۔ ادارہ اس امدادی منصوبے کے لیے درکار باقیماندہ وسائل حاصل کرنے اور ان لوگوں کو مدد پہنچانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔