انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یمن: فریقین یو این ثالثی میں 1,600 جنگی قیدیوں کی رہائی پر متفق

یمن کے ایک شہر میں ایک مصروف گلی کا منظر ، جس میں روایتی لباس میں ملبوس مرد بیک گراؤنڈ میں تاریخی فن تعمیر کے ساتھ ایک مارکیٹ میں ٹیکسٹائل بیچ رہے ہیں۔
© Unsplash/Thomas Foertsch یمن کے شہر صنعا کا قدیمی علاقہ۔

یمن: فریقین یو این ثالثی میں 1,600 جنگی قیدیوں کی رہائی پر متفق

امن اور سلامتی

یمن میں 1600 سے زیادہ جنگی قیدی اور دیگر زیر حراست افراد اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت رہا کیے جا رہے ہیں جو کہ امن کی جانب کوششوں میں غیرمعمولی پیش رفت ہے۔

14 ہفتوں تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد عالمی سطح پر ملک کی تسلیم شدہ حکومت اور اس کے مخالف انصاراللہ (حوثیوں) کے مابین طے پانے والا یہ معاہدہ ایک دہائی قبل خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد اس نوعیت کا سب سے بڑا اقدام ہے۔ اس کا اعلان یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈبرگ نے اردن کے دارالحکومت عمان میں کیا۔

Tweet URL

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ ہزاروں یمنی خاندانوں کے لیے سکون کا باعث ہے جو اپنے عزیزوں کی واپسی کے لیے طویل اور تکلیف دہ انتظار سے گزر رہے تھے۔

بدترین انسانی بحران

2014 سے جاری مسلح تنازع نے یمن کو شدید تباہی سے دوچار کر رکھا ہے۔ اُس سال انصار اللہ (حوثیوں) نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں جنگ بھڑک اٹھی اور دنیا کے ایک بدترین انسانی بحران نے جنم لیا۔

اس خانہ جنگی کے نتیجے میں لاکھوں یمنی آج بھی انسانی امداد کے محتاج ہیں جبکہ کروڑوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور ملکی معیشت و بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

قیدیوں کی رہائی کا یہ معاہدہ 2018 کے سٹاک ہوم معاہدے کے تحت قائم کردہ نگران کمیٹی کے ذریعے طے پایا جس میں تمام فریقوں نے 'سب کے بدلے سب' کے اصول کے تحت تمام جنگی قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کیا تھا۔

معاہدے کے لیے عالمی تعاون

معاہدے کے لیے بات چیت رمضان، عید اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بھی جاری رہی۔ ہینز گرنڈ برگ نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات غیر معمولی حد تک پیچیدہ تھے اور کامیابی کے لیے تمام فریقین کی جانب سے مستقل مزاجی، لچک اور سنجیدہ رویے کی ضرورت تھی۔

خصوصی نمائندے کے دفتر نے ان مذاکرات کو انٹرنیشنل کمیٹی فار ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی مدد سے آگے بڑھایا جو قیدیوں کی رہائی کے عمل کی نگرانی میں بھی مدد دے گی۔

ہینز گرنڈبرگ نے مذاکرات کی میزبانی پر اردن کا شکریہ ادا کیا اور عمان اور سوئزرلینڈ میں ہونے والے گزشتہ مذاکرات کو بھی اس معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں اہم قرار دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں یورپی یونین، جرمنی، جاپان، نیدرلینڈز، سوئزرلینڈ اور برطانیہ سمیت مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کی مالی اور سیاسی حمایت کو بھی سراہا ہے۔

عملدرآمد کا مرحلہ

معاہدے کے بعد اگلے مرحلے میں قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔ فریقین نے 'آئی سی آر سی' کے تعاون سے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے اتفاق کیا ہے۔ علاوہ ازیں، مزید مذاکرات، جیلوں کے مشترکہ دوروں اور زیرحراست افراد تک رسائی کو یقینی بنانے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

ہینز گرنڈبرگ نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مستقل اور سنجیدہ مذاکرات مثبت نتائج دے سکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب فریقین بات چیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو وہ لوگوں کے سب سے اہم مسائل حل کر سکتے ہیں اور وسیع تر امن عمل کے لیے اعتماد سازی میں مدد ملتی ہے۔

یو این عملے کی رہائی کا مطالبہ

خصوصی نمائندے نے یمن میں زیر حراست اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور دیگر افراد کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ، امید ہے آج کی یہ مثبت پیش رفت اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کے ان لوگوں کی رہائی میں بھی مددگار ثابت ہو گی جو تاحال بلا جواز قید کاٹ رہے ہیں۔

ہینز گرنڈبرگ نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ یہ معاہدہ فریقین کے درمیان اعتماد کو فروغ دینے اور یمن میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔