انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنوبی سوڈان: بے گھروں کو سیلابوں سے بچاتے پاکستانی امن کار

UNMISS کے پاکستانی امن محافظ جنوبی سوڈان کے شہر بینٹیو کے قریب پانی کی سطح کی پیمائش کر رہے ہیں۔
© UNMISS/Robin Giri جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن ’انمس‘ سے منسلک پاکستانی انجینئرز بینتیو میں پشتوں کو مضبوط کرنے اور سیلابی ریلے سے نمٹنے کی تیاری میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔

جنوبی سوڈان: بے گھروں کو سیلابوں سے بچاتے پاکستانی امن کار

امن اور سلامتی

بینتیو کے وسیع سیلابی میدانوں کو اپنا گھر کہنے والے قریباً تین لاکھ افراد کے لیے تحفظ اور بے گھری کے درمیان فرق مٹی کے صرف ایک بند کا ہے۔

حالیہ برسوں میں جنوبی سوڈان کے طول و عرض میں موسمیاتی دھچکوں نے سیلاب کو انسانی جانوں اور املاک کے لیے ایک واضح خطرہ بنا دیا ہے۔ پوری کی پوری بستیاں پانی میں ڈوب گئ ہیں۔ جبکہ بینتیو میں دنیا کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ ہے جہاں اندرون ملک بے گھر ہونے والے لوگ مقیم ہیں۔ ان کا تحفظ مٹی کے وہ بند ہیں جنہیں جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن (یو این ایم آئی ایس ایس) کی انجینیرنگ ٹیمیں ہر وقت مضبوط کرتی رہتی ہیں۔

دریائے نیل کے امڈتے پانی سے شہریوں کو تحفظ میں ایک اہم کردار پاکستان اور منگولیا سے تعلق رکھنے والے امن دستوں کا ہے۔ ہر ہفتے منگولیا کی بٹالین کی قیادت میں کشتیاں گدلے پانیوں میں گشت کرتی ہیں۔ ان کشتیوں پر پاکستانی تکنیکی ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں جو پانی کی سطح کی پیمائش کرتے اور اطراف کے حفاظتی پشتوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔

جنوبی سوڈان میں ایک دریا پر ایک کشتی میں UNMISS کے امن محافظ۔
© UNMISS/Nektarios Markogiannis منگولیا سے تعلق رکھنے والے ان کار بینتیو میں مصروف عمل ہیں۔

پاکستان منگولیا اشتراک

یہ ماہرین چوکس رہتے ہیں کہ کہیں پانی پشتوں سے اوپر تو نہیں آ رہا، مٹی کی حالت کیا ہے، یا کسی ممکنه شگاف کے آثار تو ظاہر نہیں ہو رہے۔ یہ گشت محض معمول کی سرگرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے امن مشن کی صف اول کی حفاظتی کوششوں کا بنیادی حصہ ہے تاکہ بینتیو شہر اور بے گھر عوام محفوظ رہ سکیں۔ یہ سرگرمیاں انجینئرنگ کاموں کا ایک لازمی جزو بھی ہیں۔

منگولیا کی فوج کے کمانڈر کرنل بات اردینے نوروو کے مطابق، شہریوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اور امدادی شراکت داروں کو اپنے کام کی انجام دہی میں مدد دینا ان کے فرائض میں شامل ہے۔ اسی طرح، پاکستانی انجینئر ساتھیوں کا ساتھ قریبی اشتراک بھی نہایت اہم ہے تاکہ حفاظتی بند مضبوط رہیں، مرکزی رسد کا راستہ کھلا اور فعال رہے اور بینتیو کے رہائشی محفوظ رہیں۔

 اس بات کی تائید پاکستانی انجینئرنگ دستے کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل عثمان بھی کرتے ہیں۔ ان کہنا ہے کہ پیشگی بنیاد پر کشتیوں پر کیے جانے والے گشت ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط بناتے ہیں، بروقت اقدامات میں مدد دیتے ہیں اور مقامی آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستان سے UNMISS انجینئرز ایک Komatsu مشین چلاتے ہیں اور Untiu، Unity State میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے ایک ڈائک بنا رہے ہیں۔
© UNMISS/Nektarios Markogiannis امن مشن ’انمس‘ میں پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھنے والے اہلکار سیلاب کے پانی کو آبادیوں کا رخ کرنے سے روکنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

نیلا ہیلمٹ تحفظ کی ضمانت

ان کی ٹیم اُس وسیع نیٹ ورک کی تعمیر اور مضبوطی کے کام کی قیادت کر رہی ہے جس میں مٹی کے حفاظتی بند اور پشتے شامل ہیں جو بے گھر افراد کے کیمپ اور اقوام متحدہ کے مرکز، رسد کے مرکزی راستے اور ہوائی پٹی کو گھیرے ہوئے ہیں تاکہ ضرورت مند افراد تک انسانی امداد کی مسلسل فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ کرنل عثمان کے مطابق، یہ کام آسان نہیں ہےکیونکہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہم آہنگی، مشترکہ ذمہ داری اور مسلسل  نگرانی لازمی ہیں۔

صرف اعداد و شمار سے بھی اس اہم کارروائی کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کئی کلومیٹر پر محیط مٹی کے حفاظتی پشتوں کی مسلسل نگرانی اور مرمت ضروری ہوتی ہے۔ ایک معمولی سا شگاف بھی پانی کو تیزی سے اندر داخل ہونے کا موقع دے سکتا ہے اور چند گھنٹوں میں مہینوں کی محنت ضائع ہو سکتی ہے۔

پشتوں کے ساتھ چلتے مرد و خواتین اور بچے گشت کرتی کشتیوں کو گزرتا دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہی نیلا ہیلمٹ پہننے والے امن دستے انہیں اور ان کے خاندانوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ ان حفاظتی اقدامات کے بغیر انسانی امداد کی ترسیل متاثر ہو جائے گی اور پہلے ہی غیر محفوظ حالات میں زندگی گزارنے والی آبادیوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بینتیو میں بحران معمول کی بات ہیں۔ تاہم، یہ مشترکہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ استحکام باہمی تعاون، مسلسل نگرانی اور خطرے سے دوچار افراد کے تحفظ کے عزم کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔

پاکستانی امن کاروں کی خدمات پر یہ فیچر انگریزی میں یہاں شائع ہوا تھا جسے یسال احمر نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔