برطانیہ میں فلسطینی حقوق کے کارکنوں پر بڑھتی پابندیوں پر تشویش
پرامن اجتماع اور انجمن سازی کے حقوق پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار جینا رومیرو نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ سخت قوانین اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں پر مکمل پابندی کے سیاسی مطالبات کے تناظر میں بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
انہوں نے کہا ہے کہ 29 اپریل کو برطانیہ میں انسداد جرائم سے متعلق نیا قانون نافذ ہونے کے بعد حکومت نے ایسے اقدامات متعارف کرائے ہیں جو پرامن اجتماع، انجمن سازی، اظہار رائے اور عوامی شرکت کی آزادی کے حوالے سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحت اس پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے متصادم ہیں۔
اس ضمن میں 'مجموعی خلل' کا مبہم تصور خاص طور پر تشویش کا باعث ہے کہ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو احتجاجی مظاہروں کو محدود کرنے کے لیے حد سے زیادہ صوابدیدی اختیارات مل گئے ہیں جبکہ پرامن احتجاج میں ایک حد تک خلل لازمی ہوتا ہے اور اسے برداشت کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا ہے کہ چہرہ ڈھانپنے کو جرم قرار دینا خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی نگرانی کے ماحول میں شناخت چھپانا عموماً نجی زندگی کے تحفظ اور لوگوں کو خوف و ہراس سے بچانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ عبادت گاہوں کے قریب احتجاجی سرگرمیوں پر مزید پابندیاں لگا کر ریاست ایسا ماحول پیدا کرنے کا خطرہ مول لے رہی ہے جہاں اختلاف رائے کا اظہار ممکن نہیں ہو گا حالانکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ احتجاج کو اس جگہ ممکن بنایا جائے جہاں اس کی آواز متعلقہ فریق تک پہنچ سکے۔
یہود دشمنی کا مسئلہ
29 اپریل کو لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں چاقو زنی کے متعدد واقعات کے بعد برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا تھا کہ وہ فلسطین کے حق میں ہونے والے بعض مظاہروں پر پابندی عائد کرنے کے لیے غور کریں گے کیونکہ، ان کے بقول، ان مظاہروں کے مجموعی اثرات برطانیہ کی یہودی برادری پر مرتب ہو رہے ہیں۔
یہ بیان حزب اختلاف کی جانب سے فلسطین کے حق میں ہونے والے تمام احتجاجی مظاہروں پر عارضی پابندی کے مطالبے کے بعد سامنے آیا اور انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون سازی کے آزاد مبصر نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایسے مظاہروں کا یہود دشمنی بھڑکائے بغیر منعقد ہونا کسی طور ممکن نہیں۔
اطلاع کار نے برطانیہ کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یہود دشمنی کی روک تھام کے نام پر فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں کو بدنام کرنے یا ان پر پابندی لگانے سے گریز کرے۔ یہود دشمنی ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مخصوص اور قانونی اقدامات کیے جانا چاہییں اور اسے پرامن احتجاج پر مکمل پابندی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
احتجاج پر امتیازی پابندیاں
جینا رومیرو نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ حکومت کا رویہ بظاہر ایسے مظاہروں پر زیادہ کڑی نگرانی نافذ کر رہا ہے جن کا تعلق زیادہ تر مسلمان برادریوں سے ہے جبکہ دوسری طرح کے احتجاجی مظاہروں پر ایسی سختی دیکھنے میں نہیں آئی جنہیں براہ راست یہود دشمنی یا نسل پرستانہ واقعات سے جوڑا گیا۔ انسانی حقوق کا بین الاقوامی قانون مذہب اور نسل سمیت کسی بھی بنیاد پر پرامن اجتماع کے حق پر امتیاز برتنے کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگر احتجاج پر پابندیوں کو یہود دشمنی جیسے کسی طرز عمل کی بنیاد پر نافذ کیا جائے لیکن عملاً ان سے کوئی مذہبی یا نسلی گروہ غیر متناسب طور پر متاثر ہو تو یہ امتیازی سلوک کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
پرامن اجتماع کی آزادی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ فلسطین کے حق میں ہونے والے احتجاج پر پابندی جمہوریت پر حملے کے مترادف ہو گی۔ یہ بات خاص طور پر 16 مئی کو ہونے والی نکبہ ریلیوں کے تناظر میں بہت اہم ہے۔
خصوصی اطلاع کار اس سے پہلے بھی ان خدشات کے بارے میں برطانیہ کی حکومت سے رابطہ کر چکی ہیں۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔