انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین جنگ: ایک ہفتے میں 70 شہری ہلاک، 500 سے زیادہ زخمی

یوکرائن کے شہر کیف میں فائر فائٹرز سردیوں کے سرد موسم میں شدید نقصان پہنچانے والی صنعتی عمارت میں آگ سے لڑ رہے ہیں۔ عمارت اور آس پاس کے علاقے برف سے ڈھکے ہوئے ہیں جبکہ عملے آگ پر قابو پانے اور مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔
© UNICEF/Ian Dobronosov یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یوکرین جنگ: ایک ہفتے میں 70 شہری ہلاک، 500 سے زیادہ زخمی

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے کہ رواں ماہ یوکرین پر روس کے حملوں میں کم از کم 70 شہری ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں اور امدادی ٹیموں کو محاذ جنگ کے قریب علاقوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے نگران مشن (ایچ آر ایم ایم یو) کی سربراہ ڈینیئل بیل نے کہا ہے کہ، گزشتہ روز ہی ان حملوں میں 28 افراد ہلاک اور 194 زخمی ہوئے۔ مختصر عرصہ میں اس قدر بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتیں باعث تشویش ہیں۔

یہ حملے ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں کیے گئے جن میں ژیپوریژیا، کراماتورسک اور مغربی یوکرین کے علاقے شامل ہیں۔ گزشتہ روز ژیپوریژیا کے ایک صنعتی علاقے پر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 46 زخمی ہوئے۔ اسی روز دونیسک کے علاقے کراماتورسک کے مرکزی حصوں پر حملوں میں کم از کم 6 افراد مارے گئے اور 13 زخمی ہوئے۔ 

'ایچ آر ایم ایم یو' کے مطابق، ان میں سے کئی حملے دن کے اوقات میں گنجان آباد شہری علاقوں میں کیے گئے جس کے باعث شہری ہلاکتوں کی تعداد زیادہ رہی۔

ڈینیئل بیل نے کہا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے بیشتر لوگ روزمرہ کے معمولات انجام دے رہے تھے۔ ان میں بہت سے محو سفر تھے، خریداری کر رہے تھے یا ابتدائی حملوں کے بعد امدادی کاموں میں مصروف تھے۔ ایسے حالات میں بڑے پیمانے پر شہری نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔

طبی کارکنوں کی ہلاکتیں

ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے اہلکار اور امدادی کارکن بھی ان حملوں میں ہلاک اور زخمی ہوئے۔ پولتاوا میں دو امدادی کارکن اس وقت مارے گئے جب گیس نکالنے کی تنصیب پر ابتدائی حملے کے بعد دوبارہ حملہ کیا گیا۔ پہلا حملہ 4 اور 5 مئی کی درمیانی شب ہوا تھا۔

کیرسون میں طبی عملہ بھی اس وقت حملے کا نشانہ بنا جب وہ ابتدائی حملے سے متاثرہ افراد کی مدد کر رہا تھا۔ ان اہلکاروں کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔

مشن نے کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت متحارب فریقین پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کے جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں جن میں حملے کا وقت اور اس میں استعمال ہونے والے اسلحے کی نوعیت پر غور کرنا بھی شامل ہے۔

انسانی امداد کی فراہمی

غیر یقینی حالات کے باوجود، امدادی قافلے محاذ جنگ کے قریب متاثرہ علاقوں میں امداد مہیا کرنے میں مصروف ہیں۔ 

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، گزشتہ دو روز میں دونیسک اور خارکیئو میں رہنے والے لوگوں کو ادویات، صحت و صفائی کا سامان، شمسی لیمپ اور تعمیراتی سامان مہیا کیا گیا۔

اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت دار رواں سال اب تک محاذ جنگ کے قریب 20 امدادی قافلے روانہ کر چکے ہیں جن کے ذریعے تقریباً 22 ہزار انتہائی ضرورت مند افراد کو مدد فراہم کی گئی ہے۔