متحدہ عرب امارات پر حملوں کے بعد سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے تناظر میں امن کے لیے کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے تنازع کے جامع اور دیرپا حل کی خاطر ہرممکن اقدامات کا عزم کیا ہے۔
کونسل کا یہ اجلاس متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے تناظر میں بحرین کی درخواست پر بلایا گیا۔ اس موقع پر قیام امن و سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ کرنے اور مسئلے کا پائیدار حل نکالنے کے لیے ہرممکن کوشش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ 28 فروری کو تنازع کے آغاز سے ہی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کی ہے۔ سیکرٹری جنرل کہہ چکے ہیں کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 (2026) کا احترام کیا جانا چاہیے اور شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔ یہ قرارداد مارچ میں ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک پر حملوں کے بعد منظور کی گئی تھی۔
فجیرہ پر حملے کی مذمت
اجلاس میں بحرین کے سفیر جمال فارس الرواعی نے فجیرہ میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کو گھناؤنا اقدام اور عدم استحکام پیدا کرنے کے سوچے سمجھے اور بڑھتے ہوئے طرز عمل کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حملوں سے خلیجی خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ تھا تاہم تہران نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب، بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں فرانسیسی بحری جہاز سان انتونیو پر حملے کی تصدیق کی ہے جس میں آٹھ ملاح زخمی ہوئے۔ ادارے کے مطابق اب تک آبنائے میں 32 حملے ہو چکے ہیں جن میں 10 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کا مطالبہ
اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کے مستقل سفیرمحمد ابو شہاب نے اجلاس کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ ایران نے فجیرہ پر 12 بیلسٹک میزائل، تین کروز میزائل اور چار ڈرون طیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں میں آگ لگ گئی اور توانائی کی اہم تنصیبات متاثر ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کے فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر خطرات کو کامیابی سے ناکام بنا دیا جس سے نقصان محدود رہا تاہم تین شہری زخمی ہوئے۔ 28 فروری سے اب تک متحدہ عرب امارات پر ایران کی جانب سے داغے گئے 500 سے زیادہ بیلسٹک میزائل، تقریباً 30 کروز میزائل اور 2,000 سے زیادہ ڈرون حملوں کو ناکام بنا چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اہم سمندری راستے میں تجارتی جہازوں پر حملے بھی جاری ہیں۔ آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ وہیں تک محدود نہیں رہتا۔ یہ توانائی کی منڈیوں، سپلائی چین، خوراک کی قیمتوں اور عالمی معاشی استحکام کو بھی متاثر کرتا ہے۔ سفیر نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ایرانی حملوں کے جواب میں اور عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے فی الفور فیصلہ کن اقدام کیا جائے۔