انسانی کہانیاں عالمی تناظر

تعلیم یا خوراک: سوڈانی پناہ گزینوں کے لیے مصر میں مشکل انتخاب

مروا الزبر، 27 سالہ سوڈانی پناہ گزین، مصر کے قسطول سرحدی چوکی پر اپنی ایک سالہ بیٹی کو گلے لگائے کھڑی ہے۔
UNHCR ایک سوڈانی پناہ گزین مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع یو این ایچ سی آر کے رجسٹریشن مرکز میں اپنے بچے کے ساتھ اپنی باری کی منتظر ہیں۔

تعلیم یا خوراک: سوڈانی پناہ گزینوں کے لیے مصر میں مشکل انتخاب

از خالد ہریدی
مہاجرین اور پناہ گزین

سوڈان میں تین سال سے جاری سفاکانہ جنگ کے نتیجے میں آٹھ لاکھ 50 ہزار شہری پناہ کی تلاش میں مصر کی جانب نقل مکانی کر چکے ہیں۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل قریب میں ان لوگوں کو بنیادی سہولیات سے محرومی کی صورت میں نئے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تین سال پہلے مصر میں پناہ گزینوں کی تعداد تین لاکھ تھی جو اب بڑھ کر 11 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ ان حالات میں انسانی امداد کی قلت سنگین مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ ملک میں 'یو این ایچ سی آر' کی ترجمان کرسٹین بیشے نے کہا ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود ادارہ ملک میں ضروری امدادی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے جن میں تحفظ، صحت، تعلیم، بچوں کی نگہداشت اور نفسیاتی معاونت کے علاوہ ضرورت مند خاندانوں کو نقد امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔

یہ مدد لینے والوں میں بیوہ اور چھ بچوں کی ماں نوال بھی شامل ہیں جن کی زندگی اب اپنی اولاد کے لیے خوراک کا انتظام کرنے تک محدود ہو گئی ہے۔

نوال اور ادارے کی جانب سے نقد مدد حاصل کرنے والے دیگر لوگوں کو ماہانہ 1,530 مصری پاؤنڈ (تقریباً 29 امریکی ڈالر) ملتے ہیں۔ نوال جز وقتی کام بھی کرتی ہیں تاہم ان کے لیے یہ رقم کافی نہیں ہوتی اور اسی سبب وہ اپنے بچوں میں سے صرف تین کو ہی سکول میں داخل کرا سکی ہیں۔ جب وہ کام پر جاتی ہیں تو ان کا بڑا بیٹا چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ تعلیم جاری نہیں رکھ سکا۔

ایک سوڈانی پناہ گزین مصر میں یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے رجسٹریشن سینٹر میں ایک مصروف انتظار گاہ میں بیٹھا ہے۔
UNHCR قاہرہ میں واقع یو این ایچ سی آر کے رجسٹریشن مرکز میں سوڈانی پناہ گزین منتظر بیٹھے ہیں۔

امدادی وسائل کی کمی

'یو این ایچ سی آر' پناہ گزین خاندانوں کو نقد امداد فراہم کرنے کو ترجیح دیتا ہے تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی ضروریات خود طے کر سکیں۔

کرسٹین بیشے نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال امدادی وسائل کی مقدار سوڈانی بحران کے آغاز سے پہلے کی صورتحال کے برابر تھی۔ اب پناہ گزینوں کے لیے فی کس امداد 11 ڈالر ماہانہ سے کم ہو کر صرف 4 ڈالر رہ گئی ہے۔ 11 ڈالر پناہ گزینوں کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے ہی ناکافی تھے اور اب جب ان کی تعداد میں دو گنا اضافہ ہو گیا ہے تو ان کے لیے امداد میں مزید کمی آ چکی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ امسال اس نقد امدادی پروگرام کو درکار وسائل کا صرف دو فیصد ہی موصول ہوا ہے جس کے باعث مدد کے لیے منتخب کردہ خاندانوں کی تعداد نصف سے بھی کم کر دی گئی ہے۔ اگر آئندہ چند ہفتوں میں اضافی امداد نہ ملی تو یہ پروگرام مکمل طور پر بند ہونے کا خدشہ ہے۔

کرسٹین بیشے کا کہنا ہے کہ نقد امداد لینے والے زیادہ تر خاندانوں کی سربراہ خواتین ہیں اور ان خاندانوں میں عموماً سکول جانے کی عمر کے بچے بھی ہوتے ہیں۔ جب یہ امداد بند ہو جائے تو ماؤں کو ایسے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں کہ وہ بچوں کو کھانا کھلائیں یا سکول بھیجیں۔ کسی ایسے خاندان میں جب ماں ہی کمانے کی ذمہ دار ہو تو اس کے لیے بچوں کی نگہداشت کے ساتھ مستقل نوکری کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

مصر میں یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے نقد امدادی پروگرام کے دوران ایک سودانی مہاجر خاتون ماسک اور حجاب پہنے کاؤنٹر پر نقد رقم گن رہی ہے۔
UNHCR ایک سوڈانی پناہ گزین قاہرہ میں یو این ایچ سی آر کے دفتر سے نقد امداد وصول کر رہی ہیں۔

تربیت اور روزگار کے مواقع

'یو این ایچ سی آر' مختلف اداروں کے ساتھ مل کر پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کام کر رہا ہے۔ کرسٹین بیشے کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصہ میں نجی شعبے کی جانب سے ایک مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں کاروباری کمپنیاں اپنی سماجی ذمہ داری کے تحت پناہ گزینوں کو تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے لگی ہیں۔

انہوں نے بتایا ہے کہ اس طرح پناہ گزینوں اور پناہ کے خواہش مند لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اب وہ نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں جنہیں وہ محفوظ اور باعزت طور سے وطن واپسی کا موقع ملنے پر کام میں لائیں گے۔