انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کروز شپ: ہنٹا وائرس سے ایک اور مسافر بیمار

سفید پس منظر پر سبز رنگ کے ہانٹا وائرس کے ذرات کی خوردبینی تصویر۔
© CDC خوردبین کی مدد سے لی گئی ہنٹا وائرس کی تصویر۔

کروز شپ: ہنٹا وائرس سے ایک اور مسافر بیمار

صحت

بحر اوقیانوس میں کینری جزائر کےقریب لنگر انداز مسافر بردار بحری جہاز پر ایک اور مسافر کے ہنٹا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اس وبا کے باعث جہاز پر تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بین الاقوامی انتباہ بھی جاری کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، نیدرلینڈز کے پرچم بردار جہاز ہونڈیئس پر سفر کرنے والا یہ فرد ایک مرد ہے جو اب سوئزرلینڈ کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ 'ڈبلیو ایچ او' نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ 'بین الاقوامی طبی ضوابط (آئی ایچ آر) کے مطابق، ادارہ متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر ہنٹا وائرس سے متاثرہ افراد سے رابطے میں رہنے والوں کی تلاش کر رہا ہے تاکہ مرض کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

Tweet URL

اس جہاز کے 147 مسافروں میں سے تین ہلاک ہو چکے ہیں۔ 'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاسس نے بتایا ہے کہ تین بیمار مسافروں کو جہاز سے نکال کر علاج کے لیے نیدرلینڈز منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ اس وقت مجموعی طور پر عوامی صحت کو زیادہ خطرات لاحق نہیں ہیں۔

اینڈیز ہنٹا وائرس کی نشاندہی

دستیاب معلومات کے مطابق ہونڈیئس نامی یہ جہاز کروشیا میں بنایا گیا اور جون 2018 میں لانچ ہوا تھا۔ اس کی لمبائی تقریباً 108 میٹر ہے اور یہ 196 مسافروں کے علاوہ عملے کے 72 افراد کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس جہاز نے پہلا سفر 2019 میں نیدرلینڈز کے شہر فلیسنگن سے قطب شمالی میں واقع جزائر جان ماین اور سپٹزبرگن تک کیا تھا۔ 'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، ممکن ہے کہ متاثرہ افراد جہاز پر سوار ہونے سے پہلے ہی وائرس کا شکار ہو چکے ہوں۔ اب تک جہاز پر آٹھ افراد ہنٹا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے تین میں 'اینڈیز ہنٹا وائرس' کی تصدیق ہو چکی ہے جو باہمی رابطوں سے پھیلتا ہے۔ ایک مریض جنوبی افریقہ میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرعلاج ہے جس کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے۔

وائرس کی شناخت کے لیے جنوبی افریقہ میں متعدی بیماریوں کے قومی ادارے اور جنیوا یونیورسٹی ہسپتال نے کام کیا جبکہ سینیگال میں ڈاکار کے پاسچر انسٹی ٹیوٹ اور ارجنٹائن کے ادارے نیشنل ہیلتھ لیبارٹریز نے بھی اہم تعاون فراہم کیا ہے۔ 

مریضوں کی نگہداشت اور انخلا

 'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ وہ رکن ممالک کے ساتھ مل کر یقینی بنائے گا کہ مریضوں، ان کے ساتھ رابطے میں رہنے والے اہلکاروں، مسافروں اور عملے کو وہ تمام معلومات اور مدد حاصل ہو جو انہیں محفوظ رہنے اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار ہے۔ ادارے کی اولین ترجیح جہاز پر موجود باقی دو بیمار مسافروں کو نکالنا ہے تاکہ انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

جب جہاز کینری جزائر پر پہنچے گا تو ہسپانوی حکام مکمل وبائی تحقیق  اور جہاز کی مکمل صفائی اور جراثیم کشی کریں گے جس کے بعد باقی مسافروں کے حوالے سے خطرے کا جائزہ لیا جائے گا۔

'ڈبلیو ایچ او' میں وبائی و عالمی امراض کی روک تھام کے شعبے کی سربراہ ماریا وان کارخووے نے بتایا ہے کہ ادارے کو جہاز پر موجود کئی لوگوں کے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ انہیں یقین ہونا چاہیے کہ 'ڈبلیو ایچ او' جہاز کے منتظمین اور ان کے متعلقہ ممالک کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے کمروں میں ہی رہیں جب تک کہ صفائی اور دیگر اقدامات مکمل نہ ہو جائیں۔