پاکستان: لاہور کو اطفال دوست شہر بنانے کا منصوبہ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت اور تاریخی شہر لاہور کو بچوں کے لیے محفوظ اور دوستانہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف اور لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے درمیان ایک مفاہمتی یاداشت طے پا گئی ہے۔
لاہور کو اطفال دوست شہر بنانے کے اس منصوبے (سی ایف سی آئی) کے تحت ایسے اقدمات اٹھانے پر اتفاق ہوا ہے جن سے ہر بچہ خود کو محفوظ اور بااختیار محسوس کرے۔ کسی شہر کو اطفال دوست بنانے کا پاکستان میں یہ پہلا منصوبہ ہے۔
لاہور کی تیزی سے پھیلتی ہوئی آبادی جو 57 لاکھ بچوں سمیت ڈیڑھ کروڑ نفوس پر مشتمل ہےکو محفوظ ٹرانسپورٹ، صحت و تعلیم تک عدم رسائی اور دوسرے کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ان سب مسائل کے حل کے لیے یہ منصوبہ ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام شہر کی منصوبہ بندی کو اس انداز میں تبدیل کرے گا جہاں بچوں کے حقوق اور ضروریات کو ترجیح دی جائے گی۔
مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیسف پاکستان کی نمائندہ پرنیلا آئرن سائید نے کہا کہ ’جب ہم بچوں کو ذہن میں رکھ کر شہروں کو ڈیزائن کرتے ہیں تو ہم سب کے لیے بہتر جگہیں بناتے ہیں۔ یونیسف اس حوالے سے ٹھوس نتائج دینے کے لیے ایل ڈی اے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے۔‘
منصفانہ ترقی کی ضرورت
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے ذریعے بچوں کو نہ صرف تحفظ فراہم کیا جائے گا بلکہ انہیں اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں کے لیے با اختیار بھی بنایا جائیگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین میاں مرغوب احمد نے کہا کہ لاہور کی تیز رفتار ترقی کو اب زیادہ منصفانہ بنانے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہر کی ترقی کا فائدہ ہر شہری خصوصاً بچوں تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اس طرز کے اقدامات پہلے ہی دنیا کے ہزاروں شہروں میں نافذالعمل ہیں اور ان کے مثبت نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ لاہور میں اس کے آغاز کے بعد مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا جبکہ بچوں اور نوجوانوں کو شہر سے متعلق فیصلوں میں شامل کرنے کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔