انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ فلوٹیلا: انسانی امدادی سامان کی ترسیل جرم نہیں، انسانی حقوق دفتر

گلوبل سمود فلوٹلا کی ایک کشتی غروب آفتاب کے وقت سمندر پر چل رہی ہے۔
© Global Sumud Flotilla گزشتہ سال امداد لے کر غزہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے صمود فلوٹیلا میں شام ایک کشتی (فائل فوٹو)۔

غزہ فلوٹیلا: انسانی امدادی سامان کی ترسیل جرم نہیں، انسانی حقوق دفتر

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے رکن سیف ابوکیشک اور تھیاگو ڈی آویلا کو فوری اور غیرمشروط طور پر رہا کر دے جنہیں بین الاقوامی پانیوں سے حراست میں لے کر اسرائیل منتقل کیا گیا اور اب تک کسی فردجرم کے بغیر قید رکھا گیا ہے۔

دفتر کے ترجمان ثمین الخیطان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی ہمدردی کے تحت کسی سے یکجہتی کا اظہار کرنا اور غزہ میں موجود فلسطینی عوام تک امداد پہنچانے کی کوشش کوئی جرم نہیں جبکہ انہیں اس وقت مدد کی اشد ضرورت ہے۔

Tweet URL

ترجمان نے کہا ہے کہ ابوکیشک اور ڈی آویلا کے ساتھ مبینہ طور پر سنگین ناروا سلوک سے متعلق تشویشناک اطلاعات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کہ اسرائیل ناجائز گرفتاریوں اور انسداد دہشت گردی کے مبہم قوانین کا استعمال بند کرے جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہیں۔ مزید برآں، اسرائیل کو چاہیے کہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کرے اور محصور فلسطینی علاقے میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور حسب ضرورت فراہمی کو یقینی بنائے۔ 

خوراک اور دواؤں کی شدید قلت

گلوبل صمود فلوٹیلا سول سوسائٹی کی سمندری راستے سے غزہ میں امداد پہنچانے کی کوشش ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس میں سپین، فرانس اور اٹلی کے قریباً 60 جہاز شامل ہیں جنہیں 30 اپریل کو یونان کے ساحل کے قریب اسرائیلی فورسز نے روک لیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق، اسرائیل میں اشکلون کی ایک عدالت نے حکام کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان دونوں افراد کی حراست کو آئندہ اتوار تک بڑھا دیا ہے۔ 

غزہ میں انسانی امداد کی رسائی پر پابندیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ مہینوں سے جاری تنازع اور ناکہ بندی کے باعث علاقے کی آبادی کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے۔