آبنائے ہرمز: ایران امریکہ کشیدگی بحری نقل و حرکت میں بے یقینی کا سبب
اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو کڑی احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی برقرار ہے جبکہ جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) نے کہا ہے کہ اسے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 4 مئی کو متحدہ عرب امارات کے شہرفجیرہ کے شمال میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک روز قبل ایران کے قریب ایک مال بردار بحری جہاز پر کئی چھوٹی کشتیوں نے حملہ کیا۔
علاقے میں موجود دیگر جہازوں کو ریڈیو کے ذریعے ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ لنگر انداز ہونے کی جگہیں چھوڑ دیں جس سے سلامتی کی کشیدہ صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔ فروری کے آخر سے اب تک خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے اطراف سفر کرنے والے بحری جہازوں پر حملوں سے متعلق کم از کم 41 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
آج ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا اور اسے آبنائے میں داخل ہونے سے روک دیا تاہم امریکہ نے اس کی تردید کی ہے۔ گزشتہ رات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں کئی ماہ سے پھنسے جہاوزوں کو نکالنے میں مدد فراہم کرے گا۔
انخلا کی منصوبہ بندی
'آئی ایم او' جہاز رانی کی صنعت کے ساتھ ہنگامی منصوبہ بندی پر کام کر رہا ہے، جس میں آبنائے کے اندر پھنسے بحری جہازوں اور ان کے عملے کے محفوظ انخلا کا طریقہ کار بھی شامل ہے۔
ادارے کے مطابق، تقریباً 800 تجارتی جہازوں کو انخلا کی ضرورت ہو سکتی ہے جن میں آئل ٹینکرز، مال بردار اور کنٹینر بردار جہاز شامل ہیں جو توانائی اور دیگر اہم تجارتی اشیا کی ترسیل کر رہے ہیں۔ اگر ہر جہاز پر اوسطاً 25 افراد سوار ہوں تو یہ تعداد تقریباً 20 ہزار ہو گی۔
'آئی ایم او' نے خبردار کیا ہے کہ خلیج فارس میں موجود تمام ملاح کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں میزائلوں و بارودی ملبے کا نشانہ بنیں گے اور خوراک و پانی کی ممکنہ قلت جیسے مسائل سے دوچار ہوں گے۔ اگرچہ حالیہ عرصہ میں عملے کی تبدیلیاں اور واپسی ممکن ہوئی ہیں اور تقریباً 450 ملاحوں کی مدد کی گئی ہے لیکن اب بھی ہزاروں افراد سمندر میں موجود ہیں جبکہ اس خطے میں مجموعی طور پر تقریباً 3000 جہاز سرگرم ہیں۔
ادارے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ صرف بحری حفاظتی سکواڈ مستقل حل نہیں بلکہ کشیدگی میں کمی اور طویل المدتی معاہدہ ہی محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنا سکتا ہے۔
لبنان کے نظام صحت پر دباؤ
لبنان میں جنگ بندی کے بعد نازک صورتحال نے پہلے سے کمزور نظام صحت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں اور رسائی میں رکاوٹوں کے باعث علاج کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ اور شراکت داروں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر جنوبی علاقوں میں صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہے جہاں بے گھر افراد واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان علاقوں میں تین ہسپتال اور 41 بنیادی مراکز صحت مکمل طور پر بند ہیں جبکہ کئی دیگر جزوی طور پر کام کر رہے ہیں جہاں صرف ہنگامی اور دائمی بیماریوں کا علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
ان رکاوٹوں کے باعث باقی ماندہ مراکز پر شدید دباؤ ہے جس سے علاج کا معیار اور تسلسل دونوں متاثر ہو رہے ہیں اور کئی علاقے بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔
ادویات کی شدید قلت
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ضروری ادویات، خصوصاً غیر متعدی بیماریوں کے علاج کی دواؤں اور طبی سامان کی کمی پہلے ہی کمزور مریضوں کے لیے فوری خطرہ بن چکی ہے۔ اگر ان مسائل کو دور نہ کیا گیا تو پیچیدگیاں بڑھیں گی، اموات میں اضافہ ہوگا اور صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
ان مشکلات کے باوجود شراکت دار امداد بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں بے گھر افراد میں تپ دق (ٹی بی) کی سکریننگ بھی شامل ہے۔ حالیہ ہفتوں میں 750 سے زیادہ لوگوں کی سکریننگ کی گئی ہے تاہم امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مالی وسائل اور رسائی محدود ہونے کے سبب مسائل برقرار ہیں۔