بحری جہاز میں ہنٹا وائرس سے تین ہلاکتیں، ڈبلیو ایچ او مدد میں مصروف
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ بحر اوقیانوس میں ایک کروز جہاز پر ہنٹا وائرس سے مبینہ طور پر متاثرہ تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ تین دیگر بیمار ہیں۔
ادارے کے مطابق، اس مسافر بردار بحری جہاز پر ایک فرد کے اس بیماری سے متاثر ہونے کے تصدیق ہو چکی ہے جو کہ چوہوں سے پھیلتی ہے۔ ہلاک اور بیمار ہونے والے دیگر پانچ افراد کے مرض پر تفصیلی تحقیقات جاری ہیں جن میں لیبارٹری ٹیسٹ بھی شامل ہے۔ بیمار ہونے والے تین افراد میں سے ایک جنوبی افریقہ میں زیرعلاج ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسافروں اور عملے کو طبی سہولیات اور معاونت فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ وائرس کی جینیاتی ترتیب معلوم کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ 'ڈبلیو ایچ او' دو متاثرہ مسافروں کے طبی انخلا میں مدد دے رہا ہے، مکمل خطرے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جہاز پر موجود متاثرہ افراد کو معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ خطرات کو قابو میں رکھنے اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے فوری اور مربوط اقدامات نہایت اہم ہیں۔
سفری پابندیوں کا عدم امکان
اطلاعات کے مطابق، بیماری سے متاثرہ کروز جہاز ہالینڈ کی ایک کمپنی چلا رہی ہے جو تین ہفتے قبل ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا اور اس کی منزل جزائر کینری تھی۔ اس وقت یہ مغربی افریقہ میں کابو ویڈ کے ساحل کے قریب کھڑا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے بین الاقوامی طبی ضوابط (2005) کے تحت رکن ممالک کو اس صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ یہ ضوابط سرحد پار پھیلنے والے طبی خطرات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہیں۔
ادارے میں افریقی خطے کے علاقائی ڈائریکٹر محمد یعقوب جنابی نے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے لیکن اس مرض کے بے قابو ہونے کا کوئی خدشہ نہیں اسی لیے فی الوقت سفری پابندیوں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ادارے کی توجہ جانیں بچانے، خطرات کو محدود کرنے اور رکن ممالک کو اس بیماری کے پھیلاؤ سے متعلق سائنسی بنیاد پر مکمل معاونت فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کی جانب سے اس بارے میں ایک عوامی آگاہی نوٹس بھی جلد جاری کیا جائے گا۔
بیماری کا پھیلاؤ اور علامات
ہنٹا وائرس ایک نایاب بیماری ہے جو عموماً متاثرہ چوہوں کے فضلے یا پیشاب کے ذریعے پھیلتی ہے اور متاثرہ فرد میں سانس کے شدید مسائل پیدا کر سکتی ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
ادارے کے ترجمان بھانو بھٹناگر نے یو این نیوز کو بتایا ہے کہ اس وائرس کے انفیکشن زیادہ تعداد میں نہیں ہوتے اور عموماً متاثرہ چوہوں سے یہ بیماری پھیلتی ہے۔ بعض واقعات میں یہ انفیکشن شدید نوعیت اختیار کر سکتا ہے مگر یہ انسانوں کے درمیان آسانی سے منتقل نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس وقت لوگوں میں اس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا خطرہ موجود نہیں۔
انہوں نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال ہنٹا وائرس کے کم از کم 10 ہزار اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ مریض سامنے آتے ہیں، جن میں سے بیشتر کا تعلق ایشیا اور یورپ سے ہوتا ہے۔ انسانوں میں اس بیماری کی علامات عام طور پر متاثرہ ذریعے سے رابطے کے ایک سے چھ ہفتوں کے اندر ظاہر ہوتی ہیں جن میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور معدے سے متعلق مسائل جیسا پیٹ درد، متلی یا قے شامل ہیں۔