یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر پر ڈرون حملہ قابل تشویش
جوہری توانائی کے بین الاقوامی نگران ادارے (آئی اے ای اے) کو یوکرین کے ژیپوریژیا جوہری بجلی گھر (زیڈ این پی پی) کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ آج ایک ڈرون حملے میں پلانٹ پر تابکاری کو کنٹرول میں رکھنے والی لیبارٹری (ای سی آر ایل) کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حملے کا نشانہ بننے والی لیبارٹری اس جوہری پلانٹ کے مرکزی احاطے سے باہر واقع ہے جہاں فی الوقت کسی تنصیب یا عملے کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں آئی۔
اس جگہ پر موجود 'آئی اے ای اے' کی ٹیم نے حملے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے لیبارٹری تک رسائی کی درخواست کر دی ہے جبکہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل میریانو گروسی نے کہا ہے کہ ایسی تنصیبات کے قریب کسی بھی طرح کا حملہ جوہری تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
ژیپوریژیا جوہری پلانٹ یورپ میں جوہری بجلی پیدا کرنے والا سب سے بڑا مرکز ہے۔2022 میں یوکرین پر روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد اس کی سلامتی کے حوالے سے مسلسل خدشات رہے ہیں۔ شدید لڑائی کے بعد مارچ 2022 میں یہ پلانٹ روس کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ بعدازاں اس کے قریب متعدد میزائل اور ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن کا الزام دونوں فریق ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ہیں۔
آئی اے ای اے کے مطابق 26 اپریل کو زیڈ این پی پی کی آف سائٹ بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہوگئی تھی اور روس یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ 15واں ایسا واقع تھا۔ موقع پر موجود ادارے کے اہلکار پلانٹ پر بجلی جانے کے حالیہ تین واقعات کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی طرح 27 اپریل کو پلانٹ کے شعبہ ٹرانسپورٹ کی عمارت ہر ایک ڈرون حملے میں ایک ہلاکت کی اطلاع بھی ملی تھی۔ آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات جوہری تنصیبات کے قریب عسکری کارروائیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے فریقین سے احتیاط کی اپیل کرتے ہوئے انہیں جوہری تحفظ اور سلامتی کےحوالے سے ان کی ذمہ داریاں یاد کرائی ہیں۔