انسانی کہانیاں عالمی تناظر

امدادی کٹوتیوں اور بڑھتے تنازعات سے بارودی سرنگوں کی صفائی متاثر

حفاظتی لباس اور چہرے کا ڈھال پہنے ایک مائن کلیرنس ماہر صحرا کے میدان میں زمین خالص کرنے کی تربیتی سیشن کے دوران گھٹنوں کے بل بیٹھا ہے اور 'ایس پی' لکھے ہوئے سرخ نشان والے بلاک کے قریب زمین کا معائنہ کرنے کے لیے ایک آلہ استعمال کر رہا ہے۔
© UNMAS/Danish Refugee Council سوڈان میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ کیا جا رہا ہے (فائل فوٹو)۔

امدادی کٹوتیوں اور بڑھتے تنازعات سے بارودی سرنگوں کی صفائی متاثر

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں اَن پھٹے دھماکہ خیز مواد کے بڑھتے ہوئے خطرے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں بارودی مواد صاف کرنے کی اشد ضرورت کے باوجود اس مقصد کے لیے دیے جانے والے امدادی وسائل کی قلت ہے۔

بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے مائن ایکشن سروس (یو این ایم اے ایس) کی نئی سربراہ کازومی اوگاوا نے جنیوا میں ادارے کے اجلاس کے اختتام پر کہا ہے کہ دنیا بھر میں جس قدر بڑی تعداد میں مسلح تنازعات جاری ہیں اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ نتیجتاً لوگوں کی بڑی تعداد جاری اور سابقہ تنازعات میں اَن پھٹے مواد کی زد میں آ کر ہلاک و زخمی ہو رہی ہے۔ 

انہون نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس-اسرائیل جنگ کے دوران دھماکہ خیز مواد سے زخمی ہونے والوں میں تقریباً 90 فیصد تعداد شہریوں کی ہے جن میں بیشتر بچے ہیں۔ علاقے میں داغے گئے پانچ سے 10 فیصد تک گولے پھٹے ہی نہیں اور یہ بارودی مواد جا بجا پھیلا ہوا ہے۔ 

افغانستان اور شام کے خطرناک حالات 

کازومی اوگاوا نے کہا کہ اس قدر بڑے خطرے کے باوجود بارودی سرنگیں صاف کرنے اور اس معاملے میں حفاظتی آگاہی کے لیے درکار وسائل کی ہمیشہ کمی رہتی ہے۔ یہ کمی اس وقت کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے جب بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کے لیے امداد بھی کم ہو رہی ہے جبکہ دنیا میں مسلح تنازعات بڑھتے جا رہے ہیں۔

افغانستان میں روزانہ اوسطاً ایک بچہ دھماکہ خیز مواد کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ شام میں بھی حالات انتہائی تشویشناک نہیں۔ عام طور پر بارودی سرنگوں سے متاثرہ کسی ملک میں ہر سال 300 افراد ہلاک ہوتے ہیں جبکہ شام میں ہر ہفتے 200 افراد اَن پھٹے دھماکہ خیز مواد کی زد میں آ کر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ صورتحال ناقابل تصور ہے اور ایسے حالات میں عطیہ دہندگان کی مدد نہایت اہم ہے تاکہ خطرات سے آگاہی، متاثرین کی مدد، بارودی مواد کی صفائی کے عمل اور دیگر متعلقہ انسانی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

طویل المدتی اثرات

بارودی سرنگوں اور جنگوں کی دیگر دھماکہ خیز باقیات کا نقصان صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ معاشی ترقی میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔

کازومی اوگاوا نے بتایا کہ اگر کوئی بچہ معذور ہو جائے تو اس کی دیکھ بھال زندگی بھر کے لیے خاندان پر بوجھ بن جاتی ہے اور معاشرے کو بھی اس کے لیے اضافی سہولیات فراہم کرنا پڑتی ہیں۔ 

انہوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کولمبیا میں دہائیوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے باعث بارودی سرنگوں کا مسئلہ بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ اب اقوام متحدہ کے زیراہتمام ایک پروگرام کے تحت سابق جنگجوؤں کو علاقوں کی بحالی، بارودی سرنگوں کی صفائی، متاثرین کی مدد کرنے اور آگاہی مہمات میں شامل کیا جا رہا ہے۔

کازومی اوگاوا کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں کے خاتمے سے متعلق 1997 میں طے پانے والا عالمی کنونشن (اے پی ایل سی)  اس مسئلے پر قابو پانے میں موثر ثابت ہوا ہے۔ تاہم 2025 اور 2026 کے اوائل میں چند یورپی ممالک نے اس سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا جس سے کنونشن کی افادیت کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔