انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خواتین صحافیوں کی آن لائن ہراسانی میں دو گنا اضافہ، یو این رپورٹ

ایک خاتون سنہرے بالوں والی بالوں والی اور سیاہ ناخنوں کی سیاہی والی ایک خاتون ایک اسمارٹ فون استعمال کر رہی ہے جبکہ وہ باہر ایک ریلنگ پر جھکی ہوئی ہے۔
© Unsplash چھ فیصد صحافیوں نے کہا کہ وہ ڈیپ فیک کا نشانہ بنیں جبکہ ہر تین میں سے ایک خاتون کو ڈیجیٹل پیغامات کے ذریعے ناپسندیدہ جنسی پیشکشوں کا سامنا کرنا پڑا۔

خواتین صحافیوں کی آن لائن ہراسانی میں دو گنا اضافہ، یو این رپورٹ

خواتین

صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن کی نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ خواتین صحافیوں کی نصف تعداد سوشل میڈیا پر بدسلوکی اور ہراسانی کے باعث خود سنسرشپ پر مجبور ہے جبکہ 22 فیصد اپنے پیشہ وارانہ کام میں بھی یہی رویہ اپناتی ہیں۔

3 مئی کو منائے جانے والے آزادی صحافت کے عالمی دن سے قبل ادارے اور اس کے شراکت داروں کی جاری کردہ رپورٹ 'آن لائن تشدد، اثرات، اظہار اور ازالہ' کے مطابق، انسانی حقوق کی 12 فیصد خواتین کارکنوں، صحافیوں اور دیگر عوامی نمائندوں نے بتایا کہ ان کی ذاتی تصاویر کو سوشل میڈیا پر بلا اجازت شیئر کیا گیا جن میں نجی یا جنسی نوعیت کا مواد بھی شامل تھا۔ 

رپورٹ کے مطابق، 6 فیصد صحافیوں نے کہا کہ وہ ڈیپ فیک کا نشانہ بنیں جبکہ ہر تین میں سے ایک خاتون کو ڈیجیٹل پیغامات کے ذریعے ناپسندیدہ جنسی پیشکشوں کا سامنا کرنا پڑا۔

منصوبہ بند و منظم ہراسانی

رپورٹ کے مطابق، یہ ہراسانی عموماً منصوبہ بندی کے تحت اور منظم انداز میں کی جاتی ہے جس کا مقصد خواتین کو خاموش کرنا اور ان کی پیشہ وارانہ ساکھ اور عزت کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ 

خواتین صحافیوں کے معاملے میں صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ 2025 میں 45 فیصد نے سوشل میڈیا پر خود سنسرشپ کی (جو 2020 کے مقابلے میں 50 فیصد اضافہ ہے) جبکہ تقریباً 22 فیصد نے اپنے کام میں بھی ایسا کیا۔

دیگر رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین صحافیوں میں اس حوالے سے قانونی کارروائی اور پولیس کو رپورٹ کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ 2025 میں 22 فیصد خواتین نے آن لائن تشدد کے واقعات پولیس کو بتائے جبکہ 2020 میں یہ شرح 11 فیصد تھی۔ تقریباً 14 فیصد خواتین اب مجرموں، سہولت کاروں یا اپنے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہی ہیں جبکہ 2020 میں یہ تعداد 8 فیصد تھی۔ یہ رجحان اس مسئلے کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی اور جوابدہی کے مطالبے کی عکاسی کرتا ہے۔

ذہنی صحت پر منفی اثرات

آن لائن تشدد خواتین کی صحت اور ذہنی سکون پر بھی سنگین اثرات مرتب کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، تقریباً ایک چوتھائی (24.7 فیصد) خواتین صحافیوں کو اس تشدد کے باعث بے چینی یا ڈپریشن کی تشخیص ہوئی جبکہ 13 فیصد کوبعد از صدمہ ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

آن لائن تشدد کے خلاف قانونی تحفظ میں بھی بڑے پیمانے پر خلا پایا جاتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، گزشتہ سال دنیا کے 40 فیصد سے بھی کم ممالک میں خواتین کو سائبر ہراسانی یا آن لائن تعاقب سے بچانے کے لیے قوانین موجود تھے جبکہ دنیا بھر میں 44 فیصد خواتین اور لڑکیاں اب بھی قانونی تحفظ سے محروم ہیں جن کی تعداد 1.8 ارب ہے۔ 

یو این ویمن میں شعبہ انسداد تشدد کے سربراہ کیلیوپی منگیرو نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ہراسانی کو زیادہ آسان اور زیادہ نقصان دہ بنا دیا ہے جس کے باعث سالہا سال کی کڑی محنت سے حاصل کیے گئے حقوق کمزور ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ماحول میں حالات کہیں خراب ہیں جہاں جمہوریت زوال پذیر ہے اور منظم صنفی نفرت پائی جاتی ہے۔