انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار: سزا میں تخفیف کے بعد آنگ سان سوکی جیل سے گھر منتقل

آنگ سان سوچی ہیگ میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں سماعت کے دوران بیٹھی ہیں۔
ICJ/Frank van Beek دسمبر 2019 میں عالمی عدالت انصاف میں ایک پیشی کے دوران آنگ سان سوکی کی لی گئی ایک تصویر۔

میانمار: سزا میں تخفیف کے بعد آنگ سان سوکی جیل سے گھر منتقل

انسانی حقوق

میانمار کی جمہوری رہنما اور سابق ریاستی قونصلر آنگ سان سوکی کو جیل سے منتقل کر کے گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے۔ فوجی حکومت نے بدھ مت کے تہوار پر قیدیوں کو دی گئی عام معافی کے تحت ان کی سزا میں بھی کمی کر دی ہے۔

اس پیش رفت پر بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ناجائز طور پر گرفتار کیے گئے تمام لوگوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی عمل میں آنی چاہیے جو کہ ملک میں بامعنی سیاسی اصلاحات کی طرف بنیادی قدم ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ، میانمار میں جاری بحران کے قابل عمل سیاسی حل کے لیے پرتشدد خانہ جنگی کا فوری خاتمہ اور حقیقی معنوں میں جامع اور با معنی مذاکرات کے لیے سنجیدہ عزم کا اظہار ضروری ہے۔

اس مقصد کے لیے فوجی حکمرانوں اور ان کے مخالف رہنماؤں کو میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ مسلسل اور سنجیدہ رابطہ رکھنا ہو گا تاکہ مسئلے کے پرامن حل کی کوششوں کو تقویت مل سکے۔

انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ اس عمل میں علاقائی شراکت داروں، خصوصاً جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے ساتھ ہم آہنگی سے اقدامات کرنا ہوں گے جیسا کہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی نے بھی زور دیا ہے۔