انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شمالی کوریا کا جوہری ہتھیار اور میزائل تیار کرنا تشویشناک، ڈی کارلو

پیانگ یانگ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران نقاب پوش یونیفارم اور ہیلمٹ پہنے ہوئے شمالی کوریا کے فوجیوں نے ایک فوجی ٹرک کے پچھلے حصے سے بھیڑ کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا۔
© Unsplash/Micha Brändli شمالی کوریا میں ملٹری پریڈ کے دوران لی گئی ایک تصویر۔

شمالی کوریا کا جوہری ہتھیار اور میزائل تیار کرنا تشویشناک، ڈی کارلو

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے دفتر برائے سیاسی امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کی مسلسل تیاری انتہائی تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے رواں سال نیا پانچ سالہ عسکری ترقیاتی منصوبہ شروع کیا ہے جو سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہتھیاروں کے نئے ذخائر اور عسکری اثاثے تیار کرنے کی حکمت عملی جوہری تخفیف اسلحہ کی عالمی کوششوں بشمول جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے لیے بھی خطرہ ہے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 1718 (2006) کے ذریعے شمالی کوریا پر مخصوص پابندیوں کا ایک فریم ورک لایا گیا تھا۔ تاہم 2024 میں ان پابندیوں کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے آزاد پینل کی مدت بڑھانے سے متعلق قرارداد کو روس کی جانب سے ویٹو کرنے کے بعدعالمی برادری کی طرف سے ان پابندیوں کی حمایت غیریقینی ہو گئی ہے۔

روزمیری ڈی کارلو نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے اور سیکرٹری جنرل کی اس اپیل کو دہرایا کہ عالمی برادری شمالی کوریا کے ساتھ اپنے تعلقات میں سلامتی کونسل کی پابندیوں پر عمل کرے۔

مسلسل میزائل تجربات

انہوں نے کونسل کو بتایا کہ فروری میں منظور کیے گئے پانچ سالہ منصوبے کے تحت شمالی کوریا کے صدر کم جانگ ان نے ملک کی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اسی دوران یہ ملک 2025 میں 2026 کے اوائل تک بیلسٹک میزائلوں کے مسلسل تجربات کرتا رہا ہے جن میں مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے سٹریٹیجک کروز میزائل اور بحری جہازوں کے خلاف استعمال ہونے والے میزائل شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو عدم پھیلاؤ اور جمہوری عوامی جمہوریہ کوریا سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کر رہی ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe اقوام متحدہ کے دفتر برائے سیاسی امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو سلامتی کونسل کے ارکان کو شمالی کوریا کی صورتحال بارے اپنی رپورٹ پیش کر رہی ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں جوہری توانائی کے بین الاقوامی نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی نے خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا میں یونگ بیون کے جوہری مرکز پر قابل تقسیم جوہری مواد کی پیداواری صلاحیت میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نازک مرحلے پر ضروری ہے کہ جوہری خطرات کو کم کیا جائے، جوہری ہتھیاروں کے کسی بھی استعمال کو روکا جائے اور بالآخر ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے۔

جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی

روزمیری ڈی کارلو کا یہ بھی کہنا تھا کہ جزیرہ نما کوریا میں سلامتی کی مجموعی صورتحال بدستور کشیدہ ہے جہاں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے ساتھ بین کوریا اور علاقائی مکالمے کے محدود مواقع اور غلط اندازوں کی بنیاد پر کشیدگی میں اضافے کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں پائیدار کمی لانے اور ان خدشات کے خاتمے کا واحد راستہ جزیرہ نما میں دیرپا امن اور مکمل و قابل تصدیق جوہری تخفیف کا حصول ہے اور اس مقصد کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ناگزیر ہیں۔