انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اشتہار بازی میں اے آئی کے استعمال سے گمراہ کن معلومات پھیلنے کا خطرہ

خریداروں کے سلائیڈز، جو شاپنگ کارٹس کے ساتھ ہیں، ایک ڈیجیٹل ماحول میں گھوم رہے ہیں جو چمکتی ہوئی سکرینوں سے بھرا ہوا ہے، جو اشتہارات اور بائنری کوڈ دکھا رہی ہیں۔
© Unsplash/Houston SEO Director تشہیری صنعت آن لائن معلومات کے بہاؤ کا مرکز ہے کیونکہ اسی کے خرچ سے طے ہوتا ہے کہ کون سا مواد تیار ہو گا، پھیلے گا اور اس سے کمائی ہو گی۔

اشتہار بازی میں اے آئی کے استعمال سے گمراہ کن معلومات پھیلنے کا خطرہ

اقوام متحدہ کے امور

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ تشہیری صنعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلنے کا خدشہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے عالمی مواصلات (یو این ڈی جی سی) اور ذمہ دارانہ تشہیر کو فروغ دینے والے عالمی اتحاد 'کانشیئس ایڈورٹائزنگ نیٹ ورک' نےاطلاعاتی دیانت کی مضبوطی: اشتہارات، مصنوعی ذہانت اور عالمی معلوماتی بحران' کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اشتہارات میں مصنوعی ذہانت کا بے ضابطہ استعمال ڈیجیٹل معلوماتی نظام میں خطرات کو بڑھا رہا ہے۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر انہوں نے اس شعبے میں خدشات پر قابو پانے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے تو عالمی سطح پر معلومات کے بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

معلوماتی نظام کی ساکھ کو خطرہ

رپورٹ کے مطابق، تشہیری صنعت آن لائن معلومات کے بہاؤ کا مرکز ہے کیونکہ اسی کے خرچ سے طے ہوتا ہے کہ کون سا مواد تیار ہو گا، پھیلے گا اور اس سے کمائی ہو گی۔ چنانچہ آن لائن تشہیر و تجارت میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت سے یہ اثرات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی مشیر شارلٹ سکیڈن نے کہا ہے کہ اشتہارات ایسے نظام کو مالی مدد فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے یہ طے ہوتا ہے کہ لوگ کیا دیکھتے ہیں، کس پر اعتماد کرتے ہیں اور کیا یقین کرتے ہیں۔ اگر اس ضمن میں بہتری کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے اور اور واضح اصول نہ بنائے گئے تو مصنوعی ذہانت معلوماتی نظام کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے جبکہ مشتہرین کے پاس اس خرابی کو دور کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

کاروبار اور معاشرے کا فائدہ

رپورٹ میں اس حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت غلط اور گمراہ کن معلومات، نفرت انگیز مواد اور معاشرتی تقسیم کو ہوا دینے والے مواد کا پھیلاؤ تیز کر رہی ہے جبکہ اشتہاری آمدنی غیرمعیاری مواد کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ 

مصنوعی ذہانت پر مبنی اشتہاری نظام میں شفافیت کی کمی کے باعث دھوکہ دہی اور غیر موثر کارکردگی کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے تیار کردہ مواد آزاد صحافت کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اعتماد میں کمی پہلے ہی اشتہارات کی تاثیر کو متاثر کر رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے یہ صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ کاروباری خطرہ بھی ہے۔ جب لوگوں کا اعتماد کم ہوتا ہے تو اشتہارات کی تاثیر اور سرمایہ کاری پر منافع بھی کم ہو جاتا ہے۔

'سی اے این' کی شریک بانی ہیریئٹ کنگابے کا کہنا ہے کہ مصنوعات بنانے والی مشہور کمپنیوں پر مصنوعی ذہانت کو تیزی سے اپنانے کا دباؤ ہے لیکن اصولوں کے بغیر ایسا کرنا انہی پلیٹ فارمز کو کمزور کر سکتا ہے جن پر ان کی مارکیٹنگ کا انحصار ہے۔ یہ جدت کو روکنے کی بات نہیں بلکہ اسے کاروبار اور معاشرے دونوں کے لیے فائدہ مند بنانے کا معاملہ ہے۔

شفافیت، معیار اور تحفظ

اقوام متحدہ نے پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت اور اشتہارات کے حوالے سے قواعد و ضوابط کو عالمی معیار کے مطابق بنائیں اور صنعت و سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر شفافیت کو بہتر کریں۔

اشتہار دینے والی کمپنیوں کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی سپلائی چین میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کریں، معیاری میڈیا پلیٹ فارمز کو ترجیح دیں اور اپنی مالی طاقت استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو صارفین کے تحفظ کے لیے بہتر اقدامات اٹھانے کے لیے مجبور کریں۔