انسانی کہانیاں عالمی تناظر

وائرل ہیپاٹائٹس پر قابو پانے کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت، ڈبلیو ایچ او

ایک سفید یونیفارم پہنے ہوئے نرس ایک کلینک میں ایک مسکراہٹ والی ماں کے پاس کھڑے ہوئے ایک بچے کو ویکسین لگاتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔
© WHO/Sri Lanka اب ہیپاٹائٹس کی تشخیص اور علاج کے بہتر ذرائع دستیاب ہیں اور اس کے لیے درکار ادویات اور طبی سازوسامان کی قیمتوں میں بھی کمی آ رہی ہے۔

وائرل ہیپاٹائٹس پر قابو پانے کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت، ڈبلیو ایچ او

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں وائرل ہیپاٹائٹس پر قابو پانے میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے لیکن یہ بیماری اب بھی عالمگیر صحت کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

ادارے کی جانب سے اس بیماری کی موجودہ صورتحال سے متعلق تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو ہیپاٹائٹس بی اور سی سے تحفظ دینے کے معاملے میں گزشتہ برسوں کے دوران بڑی کامیابیاں دیکھنے کو ملی ہیں جبکہ یہ دونوں اقسام دنیا میں ہیپاٹائٹس سے ہونے والی 95 فیصد اموات کا سبب رہی ہیں۔

تاہم، اس پیش رفت کے باوجود 2024میں ان بیماریوں سے 13 لاکھ 40 ہزار افراد کی موت واقع ہوئی اور ہر سال تقریباً 18 لاکھ نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔

ہیپاٹائٹس بی وائرل بیماری ہے جو جگر کو متاثر کرتی ہے۔ یہ متاثرہ جسمانی رطوبتوں جیسا کہ خون، لعاب، اندام نہانی کے سیال اور منی کے ذریعے پھیل سکتی ہے یا ماں سے بچے کو منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری عارضی بھی ہو سکتی ہے اور دائمی بھی۔ موخرالذکر صورت میں جگر کا سرطان اور جگر بڑھنے (سیروسس) لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس سی بھی جگر کی سوزش ہے جو ایک وائرس کے باعث ہوتی ہے۔ یہ عموماً متاثرہ خون کے ذریعے پھیلتی ہے اور عام طور پر غیر محفوظ انجیکشن، سوئیوں اور سرنجوں کا مشترکہ استعمال یا بغیر جانچ شدہ خون کی منتقلی اس کے بڑے اسباب ہوتے ہیں۔

ایک دہائی کی پیش رفت

رپورٹ کے مطابق، 2015 کے بعد ہیپاٹائٹس بی کے نئے مریضوں کی تعداد میں 32 فیصد کمی آئی ہے جبکہ ہیپاٹائٹس سی سے ہونے والی اموات میں 12 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پانچ سال سے کم عمر بچوں میں ہیپاٹائٹس بی کی شرح بھی کم ہو کر 0.6 فیصد رہ گئی ہے۔ 85 ممالک نے 2030 تک اسے 0.1 فیصد تک لانے کا ہدف حاصل کر لیا ہے یا اس کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

اگرچہ یہ کامیابیاں 2016 کی عالمی صحت اسمبلی میں طے کیے گئے اہداف کی جانب مربوط کوششوں کا نتیجہ ہیں لیکن موجودہ رفتار 2030 کے تمام اہداف حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

فوری اقدامات کی ضرورت

'ڈبلیوایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس کا کہنا ہے، رکن ممالک نے ثابت کیا ہے کہ ہیپاٹائٹس کا خاتمہ کوئی خواب نہیں، تاہم اس سمت میں کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔ بہت سے لوگ اب بھی اس بیماری کی تشخیص اور علاج سے محروم ہیں۔ سماجی بدنامی، کمزور طبی نظام اور علاج تک غیر مساوی رسائی اس کی بنیادی وجہ ہے۔

دنیا کے پاس اس بیماری کے خاتمے کے تمام وسائل موجود ہیں لیکن 2030 کے اہداف حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر روک تھام، تشخیص اور علاج کو وسعت دینا ہوگی۔

کروڑوں افراد متاثر

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں تقریباً 28 کروڑ 70 لاکھ افراد (دنیا کی تقریباً 3 فیصد آبادی) کو ہیپاٹائٹس بی یا سی کا دائمی انفیکشن لاحق تھا۔

اگرچہ افریقی خطے میں ہیپاٹائٹس بی کے 68 فیصد نئے مریض سامنے آئے لیکن وہاں صرف 17 فیصد نوزائیدہ بچوں کو ہی پیدائش کے وقت ویکسین دی گئی۔

ہیپاٹائٹس سی کے 44 فیصد نئے مریضوں میں انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد کی بڑی تعداد شامل تھی۔ اس سے محفوظ انجیکشن اور نقصان میں کمی لانے سے متعلق خدمات کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔

علاج تک محدود رسائی

ہیپا ٹائٹس کے علاج تک رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ 2024 میں 24 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس بی کے دائمی انفیکشن میں مبتلا تھے لیکن ان میں سے 5 فیصد سے بھی کم کو علاج میسر تھا۔ اسی طرح، 2015 سے موثر علاج دستیاب ہونے کے باوجود ہیپاٹائٹس سی کے صرف 20 فیصد مریضوں کا علاج ہو سکا ہے۔

علاج اور روک تھام تک محدود رسائی کے باعث اموات کی شرح برقرار ہے۔ 2024 میں تقریباً 11 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی اور 2 لاکھ 40 ہیپاٹائٹس سی کے باعث موت کے منہ میں گئے جس کی بڑی وجہ جگر کا سرطان اور سیروسس تھے۔

ہیپاٹائٹس بی سے تقریباً 70 فیصد اموات ایشیا اور افریقہ کے 10 ممالک (بنگلہ دیش، چین، ایتھوپیا، گھانا، انڈیا، انڈونیشیا، نائجیریا، فلپائن، جنوبی افریقہ اور ویت نام) میں ہوئیں۔

ہیپاٹائٹس سی سے بیشتر اموات جغرافیائی اعتبار سے بڑے ممالک میں ہوئیں جن میں چین، انڈیا، انڈونیشیا، جاپان، نائجیریا، پاکستان، روس، جنوبی افریقہ، امریکہ اور ویتنام شامل ہیں۔

'پیشرفت ممکن ہے'

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، اس بیماری سے نمٹنے کے لیے موثر ذرائع پہلے ہی موجود ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین 95 فیصد سے زیادہ موثر ہے جبکہ طویل مدتی اینٹی وائرل علاج بیماری کو قابو میں رکھنے اور جگر کے شدید مسائل سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح، ہیپاٹائٹس سی کا مختصر دورانیے کا علاج (8 سے 12 ہفتے) 95 فیصد سے زیادہ مریضوں کو مکمل صحت یاب کر سکتا ہے۔

'ڈبلیوایچ او' میں ایچ آئی وی، ٹی بی، ہیپاٹائٹس اور جنسی بیماریوں کے شعبے کی ڈائریکٹرتیریزا کاسائیوا نے علاج تک رسائی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پیش رفت ممکن ہے، لیکن یہ بھی بتاتے ہیں کہ دنیا کہاں پیچھے رہ گئی ہے۔ ہر وہ مریض جس کی تشخیص نہیں ہو پاتی یا جس کا علاج نہیں ہوتا دراصل ایک ایسی موت ہے جس سے بچا جا سکتا تھا۔

انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کے لیے خدمات کو بنیادی صحت کے نظام کا حصہ بنائیں اور اس بیماری سے بری طرح متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کریں۔

ترجیحی اقدامات

رپورٹ میں وائرل ہیپا ٹائٹس پر قابو پانے کی جانب پیش رفت تیز کرنے کے لیے چند ضروری اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں جن میں خاص طور پر افریقی اور مغربی بحرالکاہل کے علاقوں میں ہیپاٹائٹس بی کے علاج کو وسعت دینا اور مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں ہیپاٹائٹس سی کے علاج تک رسائی بڑھانا شامل ہے۔

علاوہ ازیں، پیدائش کے وقت ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کی فراہمی اور اس بیماری کی ماں سے بچے میں منتقلی کی روک تھام کے لیے ادویات کی دستیابی بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔