امریکہ معترض لیکن ایران جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کا نائب صدر برقرار
جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے متعلق جائزہ اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں شروع ہو گیا ہے جہاں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجی کے دور میں زندہ رہنے کے لیے اس معاہدے میں تبدیلی لانا ہو گی۔
اس موقع پر سیکرٹری جنرل نے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی کوششوں کی بنیاد کمزور پڑ رہی ہے، وعدے پورے نہیں ہوئے اور اعتماد و ساکھ میں کمی آ رہی ہے۔ کئی دہائیوں کے بعد اب جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جوہری تجربات دوبارہ زیر غور ہیں جبکہ 2025 میں عالمی عسکری اخراجات بڑھ کر 2.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا جوہری خطرہ مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی تیزی سے ترقی پاتی ٹیکنالوجی کی وجہ سے اور بھی پیچیدہ ہو گیا ہے۔ جب تک جوہری ہتھیار مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے اس وقت تک انسانیت کو ان پر کنٹرول کبھی مشینوں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔
این پی ٹی کا یہ 11واں جائزہ اجلاس 27 اپریل سے 22 مئی تک اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جاری رہے گا اور اس کی کارروائی اقوام متحدہ کے ویب ٹی وی پر براہ راست نشر کی جا رہی ہے۔
نئی جوہری دوڑ
'این پی ٹی' کے نئے صدر اور ویت نام کے مندوب ڈو ہنگ ویٹ نے بھی سیکرٹری جنرل کے خیالات کی تائید کی جن کا کہنا تھا کہ گزشتہ 50 برس میں اس معاہدے نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ہر پانچ سال بعد ہونے والے جائزہ اجلاس یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ دنیا اس معاملے میں کہاں کھڑی ہے اور اسے آگے کہاں جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر 'این پی ٹی' نہ ہو تو دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے خلاف نفسیاتی اور اخلاقی رکاوٹ مزید کمزور ہو جائے گی۔ یہ وہ مستقبل نہیں جو آنے والی نسلوں کو درکار ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ 1970 سے جوہری اسلحی کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار رہا ہے مگر اب اس کی اہمیت اور ساکھ خطرے میں ہے۔
ڈو ہنگ ویٹ نے واضح کیا کہ یہ کوئی معمول کا اجلاس نہیں کیونکہ اس معاملے میں دنیا کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہے اور جوہری جنگ کا خطرہ آج کل پہلے سے کہیں زیادہ حقیقی محسوس ہو رہا ہے کیونکہ ایک نئی جوہری دوڑ دیکھنے میں آ رہی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 اور 2022 کے گزشتہ دو جائزہ اجلاسوں میں رکن ممالک کسی متفقہ فیصلے پر نہیں پہنچ سکے تھے اور اس مرتبہ تعمیری انداز میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
ایران کی نامزدگی پر اعتراضات
اجلاس کے آغاز سے قبل 'این پی ٹی' کی جنرل کمیٹی کے نائب صدر کے عہدے کے لیے ایران کی نامزدگی پر اعتراض کرتے ہوئے امریکہ کے مندوب نے اسے معاہدے کی توہین قرار دیا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا کر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا اسے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے رہنما کردار نہیں دیا جا سکتا۔ اس موقف کی تائید آسٹریلیا، برطانیہ (بشمول فرانس اور جرمنی) اور متحدہ عرب امارات نے بھی کی۔
روس کے نمائندے نے کہا کہ امریکی موقف اجلاس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش ہے۔ اعتراضات کو عمومی بحث کے دوران اٹھایا جانا چاہیے۔
ایرانی مندوب نے اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ امریکہ واحد ملک ہے جس نے جوہری ہتھیار استعمال کیے اور وہ اب بھی اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کر رہا ہے جو 'این پی ٹی' کے تحت اس پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
ڈو ہنگ ویٹ نے وضاحت کی کہ ایران کو کئی ماہ قبل غیر وابستہ تحریک کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا اور اعتراضات صرف چند روز پہلے سامنے آئے۔ اجلاس میں اتفاق رائے برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے بتایا کہ اعتراض کرنے والے ممالک نے ووٹنگ کے بجائے خود کو اس فیصلے سے الگ ظاہر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔