انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بحری راستوں کا استعمال بطور ہتھیار بند ہونا چاہیے، یو این چیف

ایک بڑے کارگو جہاز کا ہوائی منظر جو نیلے سمندر کے پانی پر سفر کر رہا ہے اور اس کے پیچھے سفید لہروں کا پٹا چھوڑ رہا ہے۔
© IMO دنیا کی 80 فیصد عالمی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے۔

بحری راستوں کا استعمال بطور ہتھیار بند ہونا چاہیے، یو این چیف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تجارتی جہاز رانی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔

بحری جہاز رانی کا تحفظ یقینی بنانے کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ تجارتی جہازوں کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بند کیا جائے اور ملاحوں کی جانب سے اپیل کرتے ہوئے انہیں آبنائے سے بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی منصوبہ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

سمندری گزرگاہوں کی حفاظت اور سلامتی پر غور کے لیے یہ اجلاس بحرین نے بلایا جو رواں ماہ کونسل کا صدر بھی ہے۔ اس موقع پر 'آئی ایم او' کے سیکرٹری جنرل آرسینوی ڈومینیگیز نے کونسل کو بریفنگ دی جبکہ امریکہ، روس، برطانیہ، چین، فرانس، پاکستان، بحرین اور دیگر رکن ممالک کے نمائندوں نے بھی خیالات کا اظہار کیا۔

آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس کی مخالفت

انتونیو گوتیرش کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں 20 ہزار سے زیادہ ملاح دو ہزار سے زیادہ تجارتی جہازوں پر سوار ہیں جن کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ ان کی حفاظت، بہبود اور ان کے حقوق کا ہر وقت اور ہر جگہ تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ رکن ممالک بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) کے ہنگامی انخلا سے متعلق فریم ورک کی حمایت کریں تاکہ ایک مربوط منصوبے کے تحت متاثرہ عملے کی محفوظ نقل و حرکت، امداد اور تحفظ ممکن ہو سکے۔

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ دنیا کے 20 فیصد تیل و گیس اور ایک تہائی کھاد کی ترسیل اسی آبنائے سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ ایک اہم تجارتی گزرگاہ اور انسانی ضرورت ہے۔ موجودہ بحران کے نتیجے میں معاشی دھچکوں کی قیمت سب کو چکانا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بحری جہازوں پر کسی طرح کا ٹول ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے۔

اربوں لوگوں کے لیے معاشی خطرہ

بین الاقوامی ادارہ برائے تزویراتی مطالعہ (آئی آئی ایس ایس) میں سمندری سلامتی سے متعلق امور کے ماہر نک چائلڈز نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت کے لیے سمندری تجارت کی اہمیت اور سمندری ماحول کو لاحق خطرات کوئی نئی بات نہیں لیکن حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان سمندری گزرگاہوں پر انسانیت کا انحصار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے اور سمندروں کے آزادانہ استعمال کو درپیش خطرات بھی مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 80 فیصد عالمی تجارت سمندر کے ذریعے ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں حالیہ خلل سے یہ حقیقت اجاگر ہوئی ہے کہ دنیا کی بڑی آبی گزرگاہوں میں رکاوٹ اربوں لوگوں کے لیے معاشی مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے میں محض معلومات کے تبادلے سے آگے بڑھ کر ایک نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس میں مسائل اور ان کے اثرات کا تزویراتی تجزیہ بھی شامل ہو۔ 

پائیدار حکمت عملی کی ضرورت

نکل چائلڈز کا کہنا تھا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز سے متعلق حالات اس وقت سمندری سلامتی کے حوالے سے بڑا مسئلہ ہیں لیکن دنیا میں کئی دیگر حساس سمندری علاقے بھی موجود ہیں اور سمندری ماحول میں مسلسل تبدیلی کے باعث ایسے مقامات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سمندری سلامتی کے لیے جامع اور پائیدار حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے جو موجودہ فریم ورک اور ماضی کے تجربات پر مبنی ہو مگر اس کے ساتھ مزید موثر اور مضبوط طرزعمل بھی اختیار کیا جائے۔