مصنوعی ذہانت کے جن کو قابو میں لانے کی ضرورت، جیفری ہنٹن
نوبیل انعام یافتہ جیفری ہنٹن کو بابائے مصنوعی ذہانت بھی کہا جاتا ہے جن کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو سٹیئرنگ کے بغیر تیز رفتار گاڑی سمجھا جائے تو ضابطہ بندی ہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے اسے قابو میں لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے زیراہتمام منعقدہ 'عالمی ڈیجیٹل کانفرنس: مصنوعی ذہانت برائے سماجی ترقی' سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو ازحد احتیاط سے رہنمائی دی جانی چاہیے تاکہ یہ معاشروں کو نقصان پہنچانے کے بجائے ان کے کام آئے۔ اگر کوئی ایسی گاڑی میں سفر کے لیے نکلے جس میں بریک نہ ہوں تو ڈھلوان پر اس کے لیے بہت مشکل ہو جائے گی۔ اگر اس گاڑی میں سٹیئرنگ بھی نہ ہو تو مشکل اور بھی بڑھ جائے گی۔
انہوں نے یہ بات ایسے موقع پر کہی ہے جب دنیا بھر کی حکومتیں اور اقوام متحدہ کے مختلف ادارے مصنوعی ذہانت کے انتظام، مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس ٹیکنالوجی کی شمولیت اور اس سے لاحق خطرات پر قابو پانے کے لیے غور و خوض کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل عدم مساوات
مصنوعی ذہانت میں ترقی کی رفتار حیران کن ہے۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کے مطابق، 2033 تک اس ٹیکنالوجی کی مارکیٹ کا حجم 4.8 کھرب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جو 2023 میں 189 ارب ڈالر تھا۔ تاہم، فی الوقت اسے بنانے اور اس کی سمت طے کرنے کی صلاحیت چند ممالک اور کمپنیوں تک محدود ہے۔ ادارے کے قائم مقام سیکرٹری جنرل پیڈرو مینوئل مورینو نے خبردار کیا ہے کہ یہ ارتکاز عالمی سطح پر عدم مساوات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) کی سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈان مارٹن نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں تخلیقی مصنوعی ذہانت کا استعمال ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر اس مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو یہ ایک نئی خلیج پیدا کرے گا جہاں کچھ ممالک تو مصنوعی ذہانت کو تشکیل دیں گے اور باقی صرف اسے استعمال کرنے تک محدود رہ جائیں گے۔
پالیسی سازی اور عالمی کوششیں
رواں ہفتے جنیوا اور دیگر مقامات پرمصنوعی ذہانت سے متعلق اجلاسوں کا انعقاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت سے فوائد کے حصول کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات سے مناسب طور پر نمٹںے کی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
جہاں 'سائنس و ٹیکنالوجی برائے ترقی کمیشن' میں عالمی سطح کی ڈیجیٹل پالیسی تشکیل دینے پر بات ہو رہی ہے وہیں 'مصنوعی ذہانت برائے سماجی ترقی' کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس میں اس ٹیکنالوجی کے شفاف، جوابدہ اور انسانی حقوق پر مبنی نظام پر زور دیا گیا ہے تاکہ متعصبانہ و غیر شفاف الگورتھمز اور ڈیٹا کے ارتکاز جیسے مسائل سے نمٹا جا سکے۔
اس موقع پر شرکا نے سماجی تحفظ، روزگار، تعلیم اور ماحول دوست توانائی میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر بھی غور کیا اور زور دیا کہ کمزور طبقات کا تحفظ کیا جائے اور ٹیکنالوجی کے فوائد منصفانہ طور پر تقسیم کیے جانا چاہئیں۔
سائنس اور شواہد پر مبنی انتظام
مصنوعی ذہانت کے موثر انتظام کے لیے درست معلومات پر مبنی فیصلے ضروری ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر اقوام متحدہ کا آزاد سائنسی پینل یہی کام کر رہا ہے جس کا پہلا اجلاس گزشتہ دنوں سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ہوا۔
اس موقع پر نوبیل انعام یافتہ صحافی ماریا ریسا نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے طاقت ور آلات بیانیے کی جنگ کے ذریعے جمہوری نظام کو کمزور کر رہے ہیں جہاں بڑے پیمانے پر جھوٹی اطلاعات پھیلائی جاتی ہیں، ادارے کمزور ہوتے ہیں اور بالآخر احتساب کا وجود نہیں رہتا۔
یہ پینل اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کے زیراہتمام مصنوعی ذہانت کے انتظام پر ہونے والے عالمی مکالمے میں پیش کرے گا جو کہ رواں جولائی میں جنیوا میں منعقد ہونا ہے۔ اس مکالمے کے لیے اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے نمائندے اور تعلیم و ٹیکنالوجی کے ماہرین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے تاکہ بہترین طریقہ کار طے کیے جا سکیں۔
ڈیجیٹل اور نئی ٹیکنالوجی پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے امن دیپ گل نے کہا ہے کہ اس حوالے سے پالیسی سازی سائنسی اور شواہد پر مبنی ہوگی جس میں دنیا بھر سے مختلف شعبوں کی آرا شامل ہوں گی۔ یہی درست طریقہ ہے اور اقوامِ متحدہ کو فخر ہے کہ وہ سائنس اور پالیسی کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کر رہا ہے۔