انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مرکزی ساہل میں لاکھوں ضرورت مند بچے امداد کے منتظر، یونیسف

تسہارا سعیدو نے یونیسف کے تعاون سے چلنے والے ایک صحت مرکز کا دورہ کرنے کے بعد نائجر کی ایک دھول آلود سڑک پر اپنے غذائی قلت کا شکار دو سالہ بیٹے موکتار کو اٹھایا ہوا ہے۔
© UNICEF/Olivier Asselin مرکزی ساہل میں 36 لاکھ سے زیادہ لوگ تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔

مرکزی ساہل میں لاکھوں ضرورت مند بچے امداد کے منتظر، یونیسف

انسانی امداد

عالمی ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیڈ چائیبان نے بتایا ہے کہ افریقی خطہ ساہل کے مرکزی علاقے میں 75 لاکھ بچے فوری انسانی امداد کے محتاج ہیں جبکہ یہ ہنگامی بحران عالمی برادری کی توجہ سے اوجھل ہے۔

انہوں نے نیجر، برکینا فاسو اور مالی کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ خطہ بہت سی صلاحیتوں کا حامل ہے لیکن مسلسل بدامنی، موسمیاتی دھچکے اور معاشی و سماجی بحران اسے مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مالی میں حالیہ پرتشدد واقعات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ اس خطے کے بحران بچوں کے لیے کس قدر نازک صورتحال پیدا کرتے ہیں جس میں افسوسناک طور پر زندگی کا ضیاع بھی شامل ہے۔

مرکزی ساہل میں 36 لاکھ سے زیادہ لوگ تشدد کا سامنا کر رہے ہیں اور نقل مکانی پر مجبور ہیں تاہم حکومتیں، مقامی رہنما اور متاثرہ افراد اب بھی پرامید ہیں کہ بالآخر حالات بہتر ہو جائیں گے۔ 

انہوں نے تینوں ممالک میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی جن کا اس بات پر اتفاق تھا کہ سرمایہ کاری اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

بچوں کے لیے خطرات

انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں تشدد خطرناک حدود کو چھو رہا ہے اور بچوں کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق کی 1500 سے زیادہ پامالیوں کو ریکارڈ کیا ہے جن میں قتل، اغوا اور مسلح گروہوں میں بھرتی جیسے جرائم شامل ہیں جبکہ 2025 میں ہی 8400 سے زیادہ سکول ناقابل رسائی ہو گئے تھے۔

تعلیم اور بنیادی سہولیات تک رسائی نہ ہونے سے بچے بیماریوں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی صحت مند نشوونما کے امکانات متاثر ہوتے ہیں۔

اس دورے میں ہر شخص نے یہی تشویش ظاہر کی کہ بچوں اور خاندانوں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جائے، امن بحال کیا جائے، صحت اور تعلیم تک رسائی ممکن بنائی جائے اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

مثبت پیش رفت

ٹیڈ چائیبان نے خطے میں چند مثبت پیش ہائے رفت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ نیجر میں حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں نصف سے زیادہ بلدیاتی علاقوں میں پیدائش کے اندراج کا نظام جدید بنایا گیا ہے جس کے باعث شرح پیدائش 2023 میں 62 فیصد سے بڑھ کر گزشتہ سال 79 فیصد ہو گئی۔

برکینا فاسو میں حکومت نے تقریباً 25 فیصد ملکی بجٹ تعلیم اور تقریباً 12 فیصد صحت پر خرچ کیا ہے جو بنیادی سماجی خدمات بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔

مالی میں دو سال قبل حفاظتی ٹیکے لگوانے والے بچوں کی تعداد 82 فیصد تک پہنچ گئی تھی جو اس جانب اہم پیش رفت ہے کہ ہر بچے کو ضروری ویکسین میسر آنی چاہیے۔

یونیسف کا مددگار کردار

ٹیڈ چائیبان نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ ساہل میں کام کرنے والی یونیسف کی ٹیمیں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور حکومتوں کو صحت، پانی، تعلیم اور تحفظ کے شعبوں میں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ کوششیں اس وقت سب سے زیادہ موثر ہوتی ہیں جب مقامی نظام کو مضبوط بنا کر، لوگوں کو بااختیار کر کے اور مشمولہ طرز انتظام کو فروغ دے کر پائیدار استحکام پیدا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس خطے کے بچوں کی حالت کو نظرانداز نہ کرے۔ ساہل کے بچوں کی ہمت اور حوصلے کے باوجود دنیا کو آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں کہ اب بھی لاکھوں بچے فوری انسانی امداد کے منتظر ہیں۔