ساٹھ ملکوں کے دس کروڑ لوگوں کو بارودی سرنگوں سے خطرہ
دنیا بھر میں جاری جنگوں کے پیش نظر بارودی سرنگوں کی صفائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اَن پھٹے دھماکہ خیز مواد سے لاحق خطرات نہ صرف آج بلکہ آنے والی دہائیوں تک بڑھتے جا رہے ہیں۔
ہر سال ہزاروں افراد ایسے علاقوں میں ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں جو بارودی سرنگوں اور جنگ کی دھماکہ خیز باقیات سے آلودہ ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی مائن ایکشن سروس (یو این ایم اے ایس) کے مطابق، ایسے متاثرین میں سے 90 فیصد عام شہری ہوتے ہیں جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔ اس وقت دنیا کے 60 سے زیادہ ممالک میں 10 کروڑ سے زیادہ لوگوں کی زندگی کو بارودی سرنگوں سے خطرہ ہے۔
دنیا بھر سے بارودی سرنگوں کو صاف کرنے والے ماہرین اور شراکت دار گزشتہ روز سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مائن ایکشن سروس کے سالانہ اجلاس میں جمع ہوئے جہاں ادارے کی ڈائریکٹر کازومی اوگاوا نے کہا کہ دنیا کے کئی خطوں میں مسلح تنازعات جاری ہیں یا مزید شدت اختیار کر گئے ہیں جس کے باعث لاکھوں افراد بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگوں کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ 'میثاق اٹاوا' عالمی سطح پر اسلحہ کے خاتمے کے کامیاب ترین معاہدوں میں سے ایک ہے۔ تاہم افسوسناک طور سے اب کچھ ممالک اس معاہدے سے دستبردار ہو رہے ہیں۔
سب کے لیے خطرہ
اجلاس میں اقوام متحدہ کی عالمی سفیر برائے امن اور شاعرہ مریم بکر حسن نے اپنے ملک نائجیریا میں بارودی سرنگوں سے ہونے والے نقصان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اَن پھٹے بارود سے شہریوں کی ہلاکتوں کے اعتبار سے دنیا میں نائجیریا پانچویں نمبر پر ہے۔ ان کا تعلق ملک کی شمال مشرقی ریاست بورنو سے ہے جہاں برسوں سے جاری شورش کے باعث زمین بارودی سرنگوں سے بری طرح آلودہ ہو چکی ہے۔
2023 میں ان سرنگوں اور دیگر بارودی مواد کے باعث سیکڑوں لوگ ہلاک ہوئے جبکہ 2024 میں 400 سے زیادہ شہری ان کا نشانہ بنے۔
انہوں نے کہا کہ بارودی سرنگیں یہی کچھ کرتی ہیں۔ وہ یہ نہیں پوچھتیں کہ آپ کون ہیں، نہ وہ یہ دیکھتی ہیں کہ آپ کس فریق سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کو تسلیم کرتی ہیں۔