جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا مستقبل یو این میں عنقریب زیربحث
دنیا بھر کی حکومتوں کے نمائندے آئندہ ہفتے اقوام متحدہ میں جمع ہو کر اس بنیادی سوال پر غور کریں گے کہ آیا جوہری اسلحہ کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (این پی ٹی) برقرار رہ پائے گا یا نہیں؟
یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1970 سے نافذ 'این پی ٹی' کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا، تخفیف اسلحہ کو فروغ دینا اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال کو یقینی بنانا تھا۔ اس معاہدے کو 191 رکن ممالک نے اپنایا اور اس طرح یہ دنیا کے سب سے زیادہ تسلیم شدہ کثیرالفریقی معاہدوں میں شامل ہوا اور بین الاقوامی سلامتی کا بنیادی ستون بن گیا۔
گزشتہ 54 برس کے دوران کسی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں ہوئے جس کا مطلب یہ ہے کہ 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری حملے ہی وہ واحد مواقع تھے جب یہ ہتھیار استعمال کیے گئے۔
خطرناک اور غیر یقینی حالات
جوہری ہتھیاروں سے متعلق اس عالمی نظام کو اب کئی دہائیوں کے بعد سب سے سنگین بحران کا سامنا ہے۔ سرد جنگ کے دور کے بیشتر معاہدے یا تو ختم ہو چکے ہیں یا ترک کر دیے گئے ہیں۔
2010 کا نیو سٹارٹ معاہدہ فروری میں کسی متبادل کے بغیر ختم ہو گیا جس کے تحت امریکہ اور روس نے تزویراتی جوہری ہتھیاروں کی حد مقرر کی تھی۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا تھا کہ دنیا ایک غیریقینی دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں امریکہ اور روس کے جوہری اسلحہ کے ذخائر پر کوئی قانونی پابندی باقی نہیں رہی جو دنیا میں زیادہ تر جوہری ہتھیاروں کے مالک ہیں۔
یہ بڑھتا ہوا عدم اعتماد قبل ازیں 2015 اور 2022 میں ہونے والی این پی ٹی کی جائزہ کانفرنسوں میں بھی ظاہر ہوا تھا جو کسی متفقہ حتمی اعلامیے کے بغیر ختم ہوئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر ممالک اب بھی جوہری ترجیحات، ذمہ داریوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر منقسم ہیں۔
2026 کی جائزہ کانفرنس
امسال معاہدے کا جائزہ 27 اپریل سے 22 مئی تک جاری رہے گا جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ اس پر عملدرآمد کس حد تک ہوا اور آیا سلامتی کے موجودہ مسائل کے باوجود تخفیف اسلحہ اور تعاون میں پیش رفت ممکن ہے یا نہیں۔
تخفیف اسلحہ کے امور پر اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی نمائندہ ایزومی ناکامتسو نے کہا ہے کہ یہ اجلاس رکن ممالک کو سلامتی کے مشکل ماحول کے باوجود مشترکہ نکات تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ زیربحث آ رہا ہے۔ جتنے زیادہ ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہوں گے غلطی سے ان کے استعمال کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔
یہ جائزہ کانفرنس محض رسمی کارروائی نہیں ہو گی بلکہ سفارتکاروں کو اسے کامیاب بنانا ہو گا کیونکہ یہ دنیا میں جوہری نظام کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
کانفرنس میں اعلیٰ سطحی مباحثے اور موضوعاتی نشستیں شامل ہوں گی۔ اس کے ساتھ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں مختلف تقریبات، نمائشیں اور ذیلی پروگرام بھی منعقد ہوں گے جن میں حکومتیں، اقوام متحدہ کے ادارے، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کے گروپ شرکت کریں گے۔
یہ اجلاس یو این ویب ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جائے گا تاکہ دنیا بھر کے لوگ ان مباحثوں کو دیکھ سکیں جو ایٹمی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔