آبنائے ہرمز: ملاحوں کی ہلاکت پر یو این کا بحری راستے محفوظ بنانے پر زور
بحری جہاز رانی کے عالمی ادارے (آئی ایم او) کے سربراہ آرسینیو ڈومینگیز نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر بڑھتے حملوں پر خبردار کیا ہے کہ اس سے سمندری آمد و رفت اور ملاحوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ خطے میں کم از کم 29 جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں جن میں 10 ملاحوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
انہوں نے رکن ممالک کو آبنائے کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں آمد و رفت کی آزادی کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے اور خبردار کیا کہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جائے جس کی بین الاقوامی قانون کے تحت ممانعت ہو۔
انہوں نے جہازوں کی ضبطگی کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے زیر حراست ملاحوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ اگر کسی جہاز کو قبضے میں لیا جاتا ہے تو اس کے ملاح ذمہ دار نہیں ہوتے لہٰذا انہیں رہا کیا جانا چاہیے۔
بارودی سرنگوں کا خطرہ
آرسینیو ڈومینگیز نے سمندری بارودی سرنگوں کے خطرات سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ یہ ایک جگہ ساکن نہیں رہتیں اس لیے یہ نہ صرف مقررہ بحری راستوں بلکہ ان کے باہر بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
اگرچہ 'آئی ایم او' نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ بحری راستوں کا ایک نظام وضع کر رکھا ہے لیکن اس پر عملدرآمد اسی وقت ممکن ہے جب مکمل حفاظت کی ضمانت ہو اور فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔
سمندری آمد و رفت کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور ادارہ ایسے تمام اقدامات کو مسترد کرتا ہے جن کی کوئی بین الاقوامی قانونی حیثیت نہیں۔ اس میں بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
انہوں نے جلد بازی میں فیصلے کرنے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ جہاز مالکان انسانی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں اور جب تک حالات محفوظ نہ ہوں سفر سے گریز کرتے ہوئے ملاحوں کی زندگی کو تحفظ دیں۔
جہازوں کے لیے مدد کی اپیل
آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ادارہ ایران اور عمان سمیت مختلف ممالک کے ساتھ رابطہ قائم رکھے گا کیونکہ یہی دو ممالک ابتدا سے اس گزرگاہ میں جہازوں کی آمد و رفت کو مربوط کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے نظام کے تحت خوراک کی فراہمی اور تجارتی رسد کے حوالے سے جاری ہم آہنگی کا ذکر بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں کہیں بھی محفوظ راستہ موجود نہیں ہے۔ آٹھ ہفتے گزرنے کے بعد جہازوں میں موجود رسد کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ ان کے عملے کی مدد جاری رکھیں۔ ان جہازوں پر موجود ملاح شدید ذہنی دباؤ، خوف اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ وہ رات کو سو نہیں پاتے کیونکہ انہیں میزائلوں یا ڈرون حملوں کا نشانہ بننے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔
آرسینیو ڈومینیگیز نے تصدیق کی کہ 20 ہزار سے زیادہ ملاح اب بھی آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔