انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران: جنگ بندی میں توسیع سفارتکاری کا موقع، یو این چیف

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے پر ایک پریس بریفنگ کے دوران ایک پوڈیم پر خطاب کر رہے ہیں، جبکہ پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی برانڈنگ نظر آ رہی ہے۔
UN Photo/Mark Garten اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش (فائل فوٹو)۔

ایران: جنگ بندی میں توسیع سفارتکاری کا موقع، یو این چیف

امن اور سلامتی

امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ نازک جنگ بندی میں توسیع کے حالیہ فیصلے نے سفارت کاری کے لیے محدود موقع ضرور فراہم کیا ہے لیکن بدھ کو آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات سے حالات کی غیر یقینی نوعیت اور عالمی جہاز رانی و علاقائی استحکام کو لاحق خطرات واضح ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جنگ بندی میں توسیع کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کشیدگی میں کمی لانے اور سفارت کاری و اعتماد سازی کے لیے اہم موقع قرار دیا ہے۔ گزشتہ روز ان کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو جنگ بندی کو نقصان پہنچا سکتے ہوں اور تنازع کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کریں۔

انہوں نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کی کوششوں کی بھی حمایت کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان سے جامع اور دیرپا تصفیے کی راہ ہموار ہو گی۔ 

آبنائے ہرمز میں بڑھتے خطرات

سفارتی کوششوں کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران کے ساحل کے قریب جہازوں کی پکڑ دھکڑ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ برطانیہ کے ادارہ برائے سمندری تجارت (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق، ایران کے مغرب میں ایک مال بردار جہاز پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد اسے رکنا پڑا جبکہ عمان کے شمال مشرق میں ایک کنٹینر جہاز کے برج کو مسلح حملے میں شدید نقصان پہنچا۔ دونوں واقعات میں جہازوں کا عملہ محفوظ رہا۔

یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملاتی ہے اور دنیا کی تیل و گیس رسد کا ایک بڑا حصہ اسی سے گزرتا ہے۔ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری شروع ہونے کے بعد یہاں بحری آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے اور انشورنس اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ملاحوں کے تحفظ کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے بحری ادارے (ڈبلیو ایم او) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ خلیج فارس کی صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہے۔

انہوں نے تجارتی جہازوں پر حملوں اور ان کی ضبطگی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات روکنے اور متاثرہ جہازوں اور عملے کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس آبنائے میں کئی ہفتوں سے پھنسے 20 ہزار ملاح شدید خطرات میں گھرے ہیں جہاں انہیں آسمان سے گزرتے میزائلوں کے مسلسل خوف اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ لہٰذا، کشیدگی میں کمی، سنجیدہ اقدامات اور بحری آزادی کی بحالی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

لبنان میں پناہ گزینوں کی واپسی

لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی کے بعد، بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد واپسی شروع کر چکے ہیں۔ امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (اوچا) نے بتایا ہے کہ 17 اپریل سے جنگ بندی کے باوجود اب بھی ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ لوگ عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں تاہم اب اس تعداد میں 20 فیصد کمی آئی ہے۔

جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں عسکری موجودگی کے باعث واپسی محدود ہے اور کم از کم 74 علاقے اب بھی غیر محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔

فرانسیسی امن کار کی ہلاکت

اقوام متحدہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں زخمی ہونے والا ایک اور فرانسیسی امن کار دم توڑ گیا ہے۔ 31 سالہ کارپورل اس وقت شدید زخمی ہوا جب اس کی ٹیم بارودی مواد صاف کرتے ہوئے حملے کی زد میں آئی تھی۔ اس حملے میں ان کا ساتھی سارجنٹ ہلاک اور ایک اہلکار زخمی ہوا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ غالباً حزب اللہ کے جنگجوؤں کی جانب سے کیا گیا۔

یہ حالیہ کشیدگی کے دوران اقوام متحدہ کے پانچویں امن اہلکار کی ہلاکت ہے۔

صحت کے نظام پر دباؤ

لبنان میں انسانی ضروریات بدستور شدید ہیں جبکہ رسائی کی مشکلات، مالی وسائل کی کمی اور کشیدگی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ فروری سے اب تک خوراک کی قیمتوں میں چھ فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس سے کمزور طبقات پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔ 

لبنانی حکام کے مطابق، حالیہ جنگ میں 22 فیصد سے زیادہ زرعی زمین متاثر ہوئی ہے اور جنوبی لبنان میں تین چوتھائی کسانوں نے کام روک دیا ہے۔ صحت کا نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ملک بھر میں چھ ہسپتال بند ہو گئے ہیں جبکہ 15 کو نقصان پہنچا ہے اور متعدد بنیادی مراکز صحت بھی غیر فعال ہو گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، مارچ کے آغاز سے طبی سہولیات پر 147 حملے ہو چکے ہیں جن میں 100 افراد ہلاک اور 230 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔