یونیسکو کی پناہ گاہیں جنگلی حیات کے تحفظ میں کیسے کامیاب؟
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے بتایا ہے کہ جہاں دنیا بھر میں جنگلی حیات کی تعداد 1970 کی دہائی کے مقابلے میں 73 فیصد کم ہو گئی ہے وہیں ادارے کے محفوظ کردہ علاقوں میں حالات اب بھی پہلے جیسے ہیں جہاں زندگی بھرپور انداز میں پھل پھول رہی ہے۔
دھند میں لپٹی عالمی جیو پارکس کی چوٹیوں سے لے کر عالمی ورثے میں شامل مرجانی چٹانوں کے رنگا رنگ زیر آب مناظر تک، یہ مقامات محض خوبصورت نظارے ہی پیش نہیں کرتے بلکہ زمین کے لیے اہم حیاتیاتی نظام کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔
ادارے نے 'یونیسکو کے مخصوص مقامات پر لوگوں اور فطرت کی صورتحال' کے عنوان سے اپنی تزہ ترین تحقیق میں ایسے تمام محفوظ مقامات کو ایک وسیع اور مربوط حفاظتی جال کے طور پر دکھایا ہے۔ ایک کروڑ 30 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا یہ نیٹ ورک (جو چین اور انڈیا کے مجموعی رقبے سے بھی بڑا ہے) 2,260 مقامات پر مشتمل ہے۔ اسے دیکھ کر یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ جب فطرت کی حفاظت کی جائے تو فطرت بھی انسان کا تحفظ کرتی ہے۔
حیاتیاتی تنوع کا قلعہ
اس رپورٹ میں بتائے گئے اعداد و شمار واقعتاً حیران کن ہیں۔ ان علاقوں میں کرہ ارض کی 60 فیصد سے زیادہ معلوم انواع پائی جاتی ہیں اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہاں موجود ہر 10 میں سے چار انواع دنیا میں کہیں اور نہیں ملتیں۔ اگر یہ مساکن ختم ہو گئے تو یہ مخلوقات بھی ہمیشہ کے لیے ناپید ہو جائیں گی۔
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل خالد العنانی کا کہنا ہے کہ یونیسکو کے یہ مقامات انسانوں اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔ ان علاقوں میں لوگ پھل پھول رہے ہیں، انسانیت کا ورثہ محفوظ ہے اور جہاں باقی دنیا میں حیاتیاتی تنوع زوال کا شکار ہے وہاں یہ برقرار ہے۔
جانوروں اور پودوں سے بڑھ کر، یہ خطے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک خاموش مگر طاقتور کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 240 گیگا ٹن کاربن محفوظ ہے جو موجودہ رفتار سے 20 سال تک دنیا میں خارج ہونے والی کاربن کے برابر ہے۔ اگر یہ ماحولیاتی نظام تباہ ہو جائیں تو یہ فضا میں واپس شامل ہو کر کاربن بم کی طرح کام کرے گی جس سے ماحولیاتی اہداف کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔
انسانی ثقافت کے مراکز
رپورٹ میں ایک اور حیران کن انکشاف بھی شامل ہے کہ یہ علاقے ویران نہیں ہیں۔ یونیسکو کے یہ مقامات تقریباً 90 کروڑ افراد کا مسکن ہیں، یعنی دنیا کے ہر 10 میں سے ایک فرد یہاں رہتا ہے۔
یہ علاقے انسانی ثقافت کے مضبوط مراکز بھی ہیں۔ ان میں 1,000 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں اور تقریباً ایک چوتھائی مقامات قدیمی مقامی باشندوں کی زمینوں پر واقع ہیں۔ افریقہ اور لاطینی امریکا جیسے خطوں میں یہ شرح تقریباً 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ زمین کی حفاظت ان لوگوں کے بغیر ممکن نہیں جو ہزاروں برس سے اس کے نگہبان رہے ہیں۔
معاشی لحاظ سے بھی ان جگہوں کی اہمیت کم نہیں۔ مجموعی عالمی پیداوار کا تقریباً 10 فیصد انہی علاقوں میں یا ان کے آس پاس پیدا ہوتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تحفظ ماحول اور معاشی خوشحالی ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔
خطرات میں گھرا نیٹ ورک
رپورٹ میں ایک سنجیدہ انتباہ بھی شامل ہے کہ تقریباً 90 فیصد ایسے مقامات شدید موسمیاتی دباؤ کا شکار ہیں اور گزشتہ 10 برس میں ہی یہاں آگ اور سیلاب جیسے موسمی خطرات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ 2050 تک یونیسکو کے ایسے ایک چوتھائی مقامات تباہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ گلیشیئر مکمل طور پر پگھل جائیں، مرجانی چٹانیں تباہ ہو جائیں اور گھنے جنگلات اس حد تک خشک ہو جائیں کہ وہ کاربن جذب کرنے کے بجائے خارج کرنے لگیں۔
زمین کے مستقبل کا تحفظ
اچھی خبر یہ ہے کہ ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔ رپورٹ کے مطابق، اگر عالمی حدت میں اضافے کو ہر ممکن حد تک کم کیا جائے تو صدی کے آخر تک موسمیاتی خطرات سے بری طرح متاثر ہونے والے مقامات کی تعداد میں نصف حد تک کمی آ سکتی ہے۔
اس ضمن میں یونیسکو اب عالمی سطح پر کوششوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہا ہے اور حکومتوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ ان جگہوں کو صرف سیاحتی مقامات کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ انہیں تزویراتی اثاثہ سمجھیں۔
خالد العنانی کے مطابق، یہ ایک فوری اپیل ہے کہ یونیسکو کے محفوظ ماحولیاتی مقامات کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اہم تزویراتی اثاثوں کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس حوالے سے وضع کردہ حکمت عملی سادہ مگر جرات مندانہ ہے یعنی، تباہ شدہ ماحولیاتی نظام کی بحالی، سرحدوں سے ماورا تعاون کے ذریعے ہجرتی حیات کا تحفظ اور سب سے بڑھ کر، قدیمی مقامی باشندوں کو قیادت کا موقع دینا۔
یونیسکو کے مطابق آج ان مقامات پر سرمایہ کاری صرف کسی پارک یا یادگار کو بچانا نہیں بلکہ پوری زمین کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے مترادف ہے۔