غزہ کی تعمیرنو کے لیے 71.4 ارب ڈالر درکار، ورلڈ بنک تخمینہ
غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے آئندہ 10 برس میں 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جن میں سے 26.3 ارب پہلے ڈیڑھ سال میں بنیادی ضروری خدمات کی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور معیشت کی بحالی کے لیے ضروری ہیں۔
علاقے میں جنگ سے ہونے والے نقصان اور تعمیرنو کے لیے درکار اخراجات کے تخیمنے سے متعلق یورپی یونین، اقوام متحدہ اور عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان 35.2 ارب ڈالر ہے جبکہ معاشی اور سماجی نقصانات 22.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
جنگ کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں رہائش، صحت، تعلیم، تجارت اور زراعت شامل ہیں۔ تین لاکھ 71 ہزار سے زیادہ رہائشی مکانات یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ 50 فیصد سے زیادہ ہسپتال غیر فعال ہیں، تقریباً تمام سکول تباہ ہو چکے ہیں یا بمباری سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ترقی میں 77 سالہ پس رفت
رپورٹ کے مطابق، غزہ کی معیشت میں 84 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ جنگ کے نتیجے میں علاقے کی ترقی 77 سال پیچھے چلی گئی ہے۔ تقریباً 19 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں جن میں سے کئی بارہا نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ 60 فیصد سے زیادہ آبادی نے اپنے گھر کھو دیے ہیں۔ خواتین، بچے، جسمانی معذور افراد اور کمزور طبقات اس بحران کا سب سے بھاری بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔
مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ضروریات کے پیش نظر بحالی کے عمل کو امدادی اقدامات کے ساتھ چلانا ہو گا تاکہ ہنگامی امداد سے بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی طرف موثر اور مرحلہ وار منتقلی ممکن ہو سکے اور اس عمل میں غزہ کے ساتھ مغربی کنارے کو بھی شامل کیا جا سکے۔
یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ غزہ کی بحالی اور تعمیر نو فلسطینیوں کی قیادت میں ہونی چاہیے۔ اس میں بہتر تعمیر اور مستقبل کے لیے مضبوط ڈھانچے کے اصول شامل ہونا چاہئیں تاکہ حکومتی نظام کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے عمل میں مدد مل سکے جیسا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں بیان کیا گیا ہے۔
دو ریاستی حل کی ضرورت
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مسئلے کے پائیدار سیاسی حل (یعنی دو ریاستی حل) کی جانب پیش رفت بھی ضروری ہے۔ منصوبہ بندی اور عملدرآمد کو شفاف، جامع اور جوابدہ ہونا چاہیے اور خاص طور پر خواتین، بچوں، معمر اور معذور افراد کی ضروریات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
قرارداد 2803 کے موثر نفاذ کے لیے چند بنیادی حالات کا موجود ہونا ضروری ہے جن کے بغیر بحالی اور تعمیر نو ممکن نہیں ہو گی۔ ان میں پائیدار جنگ بندی اور مناسب سلامتی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی، بنیادی خدمات کی فوری بحالی، غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان لوگوں اور سامان کی آزاد نقل و حرکت اور شفاف اور فعال مالی نظام شامل ہیں۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
رپورٹ میں واضح اور جوابدہ حکمرانی، عارضی انتظامی اداروں کے کردار کا تعین، فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہم آہنگی اور پورے فلسطینی علاقے (غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم) میں مستقبل کی حکمرانی کے لیے قابل اعتماد راستہ بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ملبے کی صفائی، بارودی مواد کی تلفی اور زمین و جائیداد کے حقوق سے متعلق مسائل کا حل بھی تعمیرنو کی بنیادی شرط ہیں۔ عالمی برادری کو وسائل کی منظم اور مربوط انداز میں فراہمی یقینی بنانا ہو گی اور اس کے ساتھ ماہرین اور سازوسامان کی ترسیل میں تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کرنا ہوں گی۔
رپورٹ واضح کیا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کو وقار کے ساتھ ایک ایسا مستقبل ملنا چاہیے جو حق خود ارادیت پر مبنی ہو اور بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے عملی کردار ادا کرے۔