مالیاتی وسائل کی کمیابی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں رکاوٹ
بڑھتے جغرافیائی سیاسی تنازعات، موسمیاتی بحران اور ترقیاتی مالی وسائل میں کمی کے باعث دنیا کے غریب ترین اور کمزور ممالک پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جس کے باعث پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کی جانب پیش رفت مزید سست پڑنے لگی ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے 'مالیات برائے پائیدار ترقی' کے موضوع پر رواں سال کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پائیدار ترقی کے ایجنڈا 2030 کی تکمیل میں اب صرف چار سال باقی رہ گئے ہیں، مگر اس سمت میں ہونے والا کام نہ صرف سست ہے بلکہ بہت سی جگہوں پر اب تک حاصل کردہ کامیابیاں ضائع ہونے لگی ہیں۔
ایک چوتھائی ترقی پذیر ممالک میں فی کس آمدنی اب بھی وبا سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔ تقریباً 3.4 ارب لوگ ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں حکومتیں صحت اور تعلیم کے مقابلے میں قرضوں کے سود کی ادائیگی پر زیادہ خرچ کر رہی ہیں۔
سرکاری ترقیاتی امداد میں نمایاں کمی آئی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری مسلسل گھٹ رہی ہے اور کئی ممالک کے لیے بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے درکار ٹیکس جمع کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ عالمگیر تجارتی کشیدگیاں اور بڑھتے ہوئے ٹیرف خاص طور پر کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
امید افزا پیش رفت
مایوس کن صورتحال کے باوجود رپورٹ میں کچھ مثبت اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ 2025 میں عالمی معاشی نمو توقعات سے بہتر رہی، ترقی پذیر ممالک کے درمیان باہمی تجارت گزشتہ دو دہائیوں میں تیزی سے بڑھی ہے اور 2024 میں قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری 2.2 کھرب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی جو معدنی ایندھن میں سرمایہ کاری سے دوگنا زیادہ ہے۔
تاہم، رپورٹ کے مصنفین نے خبردار کیا ہے کہ فوری اقدامات کے بغیر یہ پیش رفت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ ترقی پذیر ممالک کو سالانہ تقریباً 4 کھرب ڈالر کے مالیاتی خسارے کا سامنا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے 2025 میں طے پانے والے 'سیویلا عہد' پر تیزی سے عملدرآمد کو واحد عملی راستہ قرار دیا گیا ہے۔
سرمایہ کاری میں اضافہ، تعاون میں مضبوطی لانا، ترقی پذیر ممالک کو عالمی مالیاتی نظام میں معقول نمائندگی دینا اور مستقبل کے معاشی دھچکوں سے نمٹنے کے اقدامات کرنا اس عہد کی اہم ترجیحات ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تعاون اور سیاسی عزم میں اضافہ نہ ہوا تو پائیدار ترقی کے اہداف اور زیادہ منصفانہ دنیا کا خواب ادھورے رہ جائیں گے۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ترقیاتی عمل کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہی ہے۔ اس جنگ کے اثرات ایندھن، کھاد اور خوراک کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں جبکہ تجارت، نقل و حمل اور سیاحت بھی متاثر ہو رہی ہے اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں، سست معاشی نمو اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کا بوجھ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے 4 کھرب ڈالر کے مالیاتی فرق میں کمی لانے کے لیے تین بڑے اقدامات تجویز کیے جو درج ذیل ہیں۔
- کثیرالفریقی ترقیاتی بینکوں کو موثر بنانے اور سرکاری و نجی شراکت داری کو فروغ دینے کے اقدامات۔
- قرضوں میں آسانی اور کریڈٹ ریٹنگ کے نظام پر نظرثانی سمیت قرض کے نظام کو منصفانہ بنانا۔
- عالمی مالیاتی ڈھانچے کو موجودہ عالمی معیشت کا بہتر عکاس بنانے کے لیے اصلاحات۔