میانمار: معزول صدر اور سیاسی قیدیوں کی رہائی خوش آئند، یو این
اقوام متحدہ نے میانمار میں معزول صدر سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے ریاستی قونصلر آنگ سان سوچی سمیت ناجائز حراست میں لیے گئے تمام لوگوں کو آزاد کرنے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ تمام سیاسی قیدیوں کی جلد رہائی کو یقینی بنانے کے لیے بامعنی اقدامات کیے جائیں اور قابل اعتبار سیاسی عمل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ فریقین اور ملک کے لیے ان کی خصوصی ایلچی جولی بشپ کے درمیان بات چیت جاری رہنا چاہیے تاکہ اقوام متحدہ، علاقائی تنظیم آسیان اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر میانمار کے عوام کے مفاد میں مسئلے کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے جیسا کہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی نے بھی مطالبہ کیا ہے۔
میانمار میں فوجی حکومت نے ملک کے معزول صدرون میئنٹ کو تقریباً چار ہزار دیگر قیدیوں کے ساتھ رہا کر دیا ہے۔ یہ رہائی نئے سال کے روایتی تہوار کے موقع پر عام معافی کے تحت عمل میں آئی۔
وولکر ترک کا اطمینان
ملک کے منتخب جمہوری صدر فروری 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد جیل میں تھے۔ اقتدار پر قبضے کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے اور مسلح مزاحمتی تحریکیں بھی ابھر آئیں۔ ریاستی قونصلر آنگ سان سوچی سمیت سابقہ حکومت کے بہت سے دیگر حکام تاحال قید میں ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور کہا ہے کہ وہ صدر ون میئنٹ اور دیگر قیدیوں کی طویل انتظار کے بعد رہائی اور متعدد لوگوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیے جانے پر اطمینان محسوس کرتے ہیں۔
فوجی بغاوت کے بعد ناجائز قید میں ڈالے گئے تمام لوگوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جانا چاہیے اور میانمار کے عوام کے خلاف جاری تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔